المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الأشراط وعلامات الساعة باب: قیامت کی علامات کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ ، ثَنَا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ، عَنْ شُفَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الْأَعَاجِمِ ، قِيلَ : وَمَا قُلُوبُ الْأَعَاجِمِ ؟ قَالَ : حُبُّ الدُّنْيَا ، سُنَّتُهُمْ سُنَّةُ الْأَعْرَابِ ، مَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ رِزْقٍ جَعَلُوهُ فِي الْحَيَوَانِ ، يَرَوْنَ الْجِهَادَ ضِرَارًا ، وَالصَّدَقَةَ مَغْرَمًا .
4493 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنِي الْمُقْرِئُ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنِي شُفَيٌّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَوْلَهُ بِهَذَا .
قُلْتُ : وَهَذَا أَصَحُّ .سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں پر یقیناً ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کے دلوں کی کیفیت عجمیوں کے دلوں جیسی ہو جائے گی۔“ دریافت کیا گیا کہ عجمیوں کے دلوں سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(مراد) دنیا کی حد سے بڑھی ہوئی محبت ہے۔ ان کا رہن سہن اور طور طریقہ دیہاتیوں جیسا ہوگا، اللہ تعالیٰ انہیں جو بھی مال و متاع اور رزق عطا فرمائے گا، وہ اسے محض چوپایوں (کی پرورش اور کثرت) میں ہی لگا دیں گے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کو سراسر نقصان اور زکوٰۃ و صدقہ دینے کو ایک جبری تاوان اور بوجھ تصور کریں گے۔“
نیز امام حارث نے اپنی سند سے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اسے ان کے اپنے قول (موقوفاً) کے طور پر بھی اسی طرح نقل کیا ہے، اور میں کہتا ہوں کہ یہ (موقوف ہونا) زیادہ صحیح ہے۔