المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الأشراط وعلامات الساعة باب: قیامت کی علامات کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ ، قَالَ : إِنَّ سَعِيدً الْمَقْبُرِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، لَيَنْزِلَنَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
وَفِيهِ : وَلَيُصْلِحَنَّ ذَاتَ الْبَيْنِ ، وَلَيُذْهِبَنَّ الشَّحْنَاءَ ، وَلَيُقْرِضَنَّ الْمَالَ ، ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلَى قَبْرِي ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ لَأُجِيبَنَّهُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں ابوالقاسم (ﷺ) کی جان ہے! عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلاة والسلام (زمین پر) ضرور نازل ہوں گے...“ (پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی) جس میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”اور وہ لوگوں کے باہمی تعلقات کی ضرور اصلاح کریں گے، دلوں سے بغض، کینہ اور دشمنی کو نکال دیں گے اور مال (تقسیم کے لیے) پیش کریں گے، پھر اگر وہ میری قبر پر کھڑے ہو کر مجھے پکاریں گے: «يَا مُحَمَّدُ» ”اے محمد (ﷺ)!“ تو میں انہیں ضرور جواب دوں گا۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے راوی ابوصخر حمید بن زیاد صدوق ہیں اور اس کی سند جید ہے۔