المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الأشراط وعلامات الساعة باب: قیامت کی علامات کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيَأْتِيَنَّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ يَوْمٌ يُمْسُونَ فِيهِ ، يَتَسَاءَلُونَ : بِمَنْ خُسِفَ اللَّيْلَةَ ؟ كَمَا يَتَسَاءَلُونَ : مَنْ بَقِيَ مِنْ آلِ فُلَانٍ ؟ وَمَنْ بَقِيَ مِنْ آلِ فُلَانٍ ؟ .سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس امت پر یقیناً ایک ایسا وقت آئے گا کہ جب لوگ شام کریں گے تو ایک دوسرے سے (بڑے پیمانے پر آنے والے ارضی عذابات کے سبب) یہ پوچھ رہے ہوں گے کہ آج رات زمین میں دھنسنے کا واقعہ کس کے ساتھ پیش آیا ہے؟ یعنی زمین کسے نگل گئی ہے؟ بالکل اسی طرح جیسے وہ (آج کل معمول کے حالات میں) یہ سوال کرتے ہیں کہ فلاں کے خاندان میں سے اب کون باقی رہ گیا ہے؟ اور فلاں کے کنبے میں سے اب کون زندہ سلامت بچا ہے؟“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیة الباحث) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند سخت ضعیف ہے کیونکہ اس کے راوی داود بن المحبر اور ابان بن ابی عیاش دونوں محدثین کے نزدیک متروک اور غیر مستند قرار دیے گئے ہیں۔