کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو اور اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، كَانَ يَتَوَضَّأُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ، وَيُحَدِّثُ " أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ " .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ان اشیاء کے استعمال کے بعد وضو کیا کرتے تھے جنہیں آگ نے (پکا کر) تبدیل کر دیا ہو، اور وہ یہ تذکرہ بھی کرتے تھے کہ ”سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بھی ایسی چیز کے کھانے کے بعد وضو فرمایا تھا جسے آگ نے بدلا (یعنی پکایا) تھا۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے اور یہ آگ سے پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے اس ابتدائی حکم پر محمول ہے جو بعد ازاں منسوخ ہو گیا تھا۔
اس اثر کی سند صحیح ہے اور یہ آگ سے پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے اس ابتدائی حکم پر محمول ہے جو بعد ازاں منسوخ ہو گیا تھا۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ :
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَقَعَدْتُ حَتَّى جَاءَ ، فَجَاءَ وَهُوَ مُغْضَبٌ ، فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ : " كُنَّا عِنْدَ هَذَا يَعْنِي الْحَجَّاجَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلُوا ، ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّوْا وَلَمْ يَتَوَضَّؤُوا ، فَقُلْتُ : أَوَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ هَذَا ؟ " فَقَالَ : لَا ، مَا كُنَّا نَفْعَلُهُ .
125 \ 2 - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، فَذَكَرَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَبِيثَ النَّفْسِ ، فَقُلْتُ : أَرَاكَ خَبِيثَ النَّفْسِ ؟ قَالَ : " وَمَا لِي لَا أَكُونُ خَبِيثَ النَّفْسِ وَقَدْ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ هَؤُلَاءِ آنِفًا وَقَدْ أَكَلُوا خُبْزًا وَلَحْمًا وَصَلَّوْا وَلَمْ يَتَوَضَّؤُوا " .
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَقَعَدْتُ حَتَّى جَاءَ ، فَجَاءَ وَهُوَ مُغْضَبٌ ، فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ : " كُنَّا عِنْدَ هَذَا يَعْنِي الْحَجَّاجَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلُوا ، ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّوْا وَلَمْ يَتَوَضَّؤُوا ، فَقُلْتُ : أَوَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ هَذَا ؟ " فَقَالَ : لَا ، مَا كُنَّا نَفْعَلُهُ .
125 \ 2 - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، فَذَكَرَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَبِيثَ النَّفْسِ ، فَقُلْتُ : أَرَاكَ خَبِيثَ النَّفْسِ ؟ قَالَ : " وَمَا لِي لَا أَكُونُ خَبِيثَ النَّفْسِ وَقَدْ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ هَؤُلَاءِ آنِفًا وَقَدْ أَكَلُوا خُبْزًا وَلَحْمًا وَصَلَّوْا وَلَمْ يَتَوَضَّؤُوا " .
ترجمہ
ابو قلابہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا لیکن وہ موجود نہ تھے، چنانچہ میں انتظار میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ وہ تشریف لے آئے، وہ اس حال میں آئے کہ سخت غصے میں تھے، میں نے ان سے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا: ”ہم اس شخص یعنی حجاج کے پاس تھے، کھانا لایا گیا تو ان سب نے کھایا، پھر وہ اٹھے اور انہوں نے نماز پڑھ لی اور (آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد) نیا وضو نہیں کیا، میں نے اس سے پوچھا: کیا تم لوگ پہلے ایسا نہیں کیا کرتے تھے؟ تو اس نے کہا: نہیں، ہم ایسا نہیں کرتے تھے۔“
ایک دوسری سند میں امام ابو قلابہ سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو نہایت بوجھل اور مکدر طبیعت کے ساتھ دیکھا تو میں نے عرض کیا: کیا بات ہے میں آپ کو پریشان حال دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ”بھلا میں کیوں رنجیدہ نہ ہوں جبکہ میں ابھی ابھی ان لوگوں کے پاس سے اٹھ کر آیا ہوں جنہوں نے روٹی اور گوشت تناول کیا اور پھر وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔“
ایک دوسری سند میں امام ابو قلابہ سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو نہایت بوجھل اور مکدر طبیعت کے ساتھ دیکھا تو میں نے عرض کیا: کیا بات ہے میں آپ کو پریشان حال دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ”بھلا میں کیوں رنجیدہ نہ ہوں جبکہ میں ابھی ابھی ان لوگوں کے پاس سے اٹھ کر آیا ہوں جنہوں نے روٹی اور گوشت تناول کیا اور پھر وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔“
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَوَضَّؤُوا ، وَالْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ، وَمِمَّا يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ " .
ترجمہ
نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تم وضو کیا کرو، اور وضو ان تمام چیزوں (کے کھانے) سے (لازم) ہے جنہیں آگ نے بدل دیا ہو (یعنی آگ پر پکائی گئی ہوں) اور ان چیزوں سے بھی جو ﴿مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ﴾ [سورة النحل: 66] یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتی ہیں۔“
یہ روایت آگ پر پکی ہوئی اشیاء کے استعمال سے وضو کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، تاہم محدثین اور فقہاء کی اکثریت کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا آخری عمل آگ پر پکی ہوئی چیزوں سے وضو نہ کرنا ثابت ہے، نیز دودھ پینے کے بعد کلی کرنا مسنون ہے وضو واجب نہیں۔
یہ روایت آگ پر پکی ہوئی اشیاء کے استعمال سے وضو کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، تاہم محدثین اور فقہاء کی اکثریت کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا آخری عمل آگ پر پکی ہوئی چیزوں سے وضو نہ کرنا ثابت ہے، نیز دودھ پینے کے بعد کلی کرنا مسنون ہے وضو واجب نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ خَالَتِهِ ، أَوْ عَمَّتِهِ - شَكَّ يَحْيَى - وَكَانَتِ امْرَأَةَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَتْ : " إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ " .
ترجمہ
محمود بن عمرو اپنی خالہ یا پھوپھی سے روایت کرتے ہیں (راوی یحییٰ کو اس میں شک ہے) جو کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ ”بے شک سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہر اس چیز کے کھانے کے بعد وضو کیا کرتے تھے جسے آگ نے بدلا ہو (یعنی آگ پر پکا ہوا کھانا کھانے کے بعد وضو فرماتے تھے)۔“
یہ روایت اس فقہی موقف کی عکاسی کرتی ہے جس میں آگ پر پکی ہوئی اشیاء کے استعمال سے وضو کو لازم یا مستحب سمجھا جاتا تھا، اگرچہ جمہور صحابہ اور ائمہ کے نزدیک بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا۔
یہ روایت اس فقہی موقف کی عکاسی کرتی ہے جس میں آگ پر پکی ہوئی اشیاء کے استعمال سے وضو کو لازم یا مستحب سمجھا جاتا تھا، اگرچہ جمہور صحابہ اور ائمہ کے نزدیک بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ عَمَّتِهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
قُلْتُ : أَظُنُّهُ مُرْسَلًا ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ضَعِيفٌ .
قُلْتُ : أَظُنُّهُ مُرْسَلًا ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ضَعِيفٌ .
ترجمہ
ہند بنت سعید بن ابی سعید الخدری اپنی پھوپھی سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بکری کے شانے کا گوشت تناول فرمایا، پھر آپ ﷺ نے نماز ادا فرمائی اور (پکا ہوا گوشت کھانے کی بنا پر نیا) وضو نہیں کیا۔“
میں کہتا ہوں کہ میرا گمان ہے کہ یہ روایت مرسل ہے، نیز اس کا راوی محمد بن ابی حمید ضعیف ہے۔
میں کہتا ہوں کہ میرا گمان ہے کہ یہ روایت مرسل ہے، نیز اس کا راوی محمد بن ابی حمید ضعیف ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : " لَوْ أَكَلْتُ لَحْمًا ، وَشَرِبْتُ لَبَنَ اللِّقَاحِ ، ثُمَّ أُصَلِّي وَلَمْ أَتَوَضَّأْ مَا بَالَيْتُ أَنْ لَا أُمَضْمِضَ فَمِي وَأَغْسِلَ يَدَيَّ مِنْ غَمْرِ الطَّعَامِ " .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر میں گوشت تناول کروں اور دودھ دینے والی اونٹنیوں کا دودھ پیوں، پھر اسی حالت میں (جدید وضو کیے بغیر) نماز ادا کر لوں، تو مجھے اس بات کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کہ میں اپنے منہ کی کلی نہ کروں اور نہ ہی اپنے ہاتھوں کو کھانے کی چکناہٹ اور بو سے صاف کروں۔“
صحیح موقوف۔
صحیح موقوف۔
حَدَّثَنَا عِيسَى ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ لَحْمًا فَأَكَلَ ، فَلَمَّا قَامَ أَخَذَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِرِدَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : أَلَا تَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِمَّ يَا بُنَيَّةُ ؟ " فَقَالَتْ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا : مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَلَيْسَ أَطْهَرُ طَعَامِنَا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ؟ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْحَارِثُ ، وَأَبُو يَعْلَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ، عَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَوْصُولًا .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْحَارِثُ ، وَأَبُو يَعْلَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ، عَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَوْصُولًا .
ترجمہ
یحیٰی بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے گوشت پیش کیا جسے آپ ﷺ نے تناول فرمایا، پھر جب آپ ﷺ (وہاں سے) اٹھنے لگے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی چادرِ مبارک پکڑ لی اور عرض گزار ہوئیں: ”کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟“ تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے میری پیاری بیٹی! کس وجہ سے (وضو کروں)؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اس کھانے کی وجہ سے جسے آگ نے بدل دیا (یعنی پکا دیا) ہے۔“ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا ہمارا سب سے پاکیزہ کھانا وہی نہیں ہوتا جسے آگ نے پکا کر تیار کیا ہو؟“۔
اسے امام احمد، حارث اور ابویعلیٰ نے ایک دوسرے طریق سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اسے امام احمد، حارث اور ابویعلیٰ نے ایک دوسرے طریق سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَسَ مِنْ كَتِفٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
ترجمہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”بے شک نبی کریم ﷺ نے (بکری کے پکے ہوئے) شانے کے گوشت کا ایک ٹکڑا اپنے دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا، پھر آپ ﷺ نے (آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کی وجہ سے تازہ) وضو کیے بغیر ہی نماز ادا فرمائی۔“
مسند ابی یعلی: 131، اس روایت کی سند میں موجود راوی حسام بن مصک ضعیف ہے، تاہم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو واجب نہ ہونے کا مفہوم دیگر صحیح و مستند احادیث سے ثابت ہے۔
مسند ابی یعلی: 131، اس روایت کی سند میں موجود راوی حسام بن مصک ضعیف ہے، تاہم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو واجب نہ ہونے کا مفہوم دیگر صحیح و مستند احادیث سے ثابت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيِّ ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ كَتِفًا بَارِدًا ، فَكُنْتُ أَسْحَاهَا ، فَأَكَلَهَا ، ثُمَّ قَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى .
ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں (بکری کے) شانے کا ٹھنڈا گوشت پیش کیا، میں اسے ہڈی سے کھرچ کر اور صاف کر کے آپ ﷺ کے لیے تیار کر رہی تھی، چنانچہ آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور پھر (آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نئے سرے سے وضو کیے بغیر) کھڑے ہوئے اور نماز ادا فرمائی۔“
اس حدیث کو امام ترمذی نے ’الشمائل المحمدية‘ (171)، امام احمد بن حنبل (26391) اور امام نسائی (184) نے روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں موجود راوی اسحاق ہاشمی کی توثیق میں ائمہ کے ہاں کلام پایا جاتا ہے، تاہم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا حکم دیگر صحیح ترین احادیث سے ثابت ہے۔
اس حدیث کو امام ترمذی نے ’الشمائل المحمدية‘ (171)، امام احمد بن حنبل (26391) اور امام نسائی (184) نے روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں موجود راوی اسحاق ہاشمی کی توثیق میں ائمہ کے ہاں کلام پایا جاتا ہے، تاہم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا حکم دیگر صحیح ترین احادیث سے ثابت ہے۔
قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " نَشَلْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا مِنْ قِدْرِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَكَلَهَا ، وَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ "
133 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - نَحْوَهُ .
133 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - نَحْوَهُ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نے اللہ کے رسول ﷺ کے لیے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ہانڈی سے گوشت کا شانہ (دستی) نکالا، پس آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور (آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کی وجہ سے دوبارہ) وضو نہیں فرمایا۔“
اور امام بزار رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل حدیث روایت کی ہے۔
اور امام بزار رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل حدیث روایت کی ہے۔