المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ وَبَيَانِ نَسْخِهِ باب: آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو اور اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 131
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَسَ مِنْ كَتِفٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .ترجمہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”بے شک نبی کریم ﷺ نے (بکری کے پکے ہوئے) شانے کے گوشت کا ایک ٹکڑا اپنے دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا، پھر آپ ﷺ نے (آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کی وجہ سے تازہ) وضو کیے بغیر ہی نماز ادا فرمائی۔“
مسند ابی یعلی: 131، اس روایت کی سند میں موجود راوی حسام بن مصک ضعیف ہے، تاہم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو واجب نہ ہونے کا مفہوم دیگر صحیح و مستند احادیث سے ثابت ہے۔