المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ وَبَيَانِ نَسْخِهِ باب: آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو اور اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 129
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : " لَوْ أَكَلْتُ لَحْمًا ، وَشَرِبْتُ لَبَنَ اللِّقَاحِ ، ثُمَّ أُصَلِّي وَلَمْ أَتَوَضَّأْ مَا بَالَيْتُ أَنْ لَا أُمَضْمِضَ فَمِي وَأَغْسِلَ يَدَيَّ مِنْ غَمْرِ الطَّعَامِ " .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر میں گوشت تناول کروں اور دودھ دینے والی اونٹنیوں کا دودھ پیوں، پھر اسی حالت میں (جدید وضو کیے بغیر) نماز ادا کر لوں، تو مجھے اس بات کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کہ میں اپنے منہ کی کلی نہ کروں اور نہ ہی اپنے ہاتھوں کو کھانے کی چکناہٹ اور بو سے صاف کروں۔“
صحیح موقوف۔