❮
❯
حدیث نمبر: 125
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ :
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَقَعَدْتُ حَتَّى جَاءَ ، فَجَاءَ وَهُوَ مُغْضَبٌ ، فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ : " كُنَّا عِنْدَ هَذَا يَعْنِي الْحَجَّاجَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلُوا ، ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّوْا وَلَمْ يَتَوَضَّؤُوا ، فَقُلْتُ : أَوَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ هَذَا ؟ " فَقَالَ : لَا ، مَا كُنَّا نَفْعَلُهُ .
125 \ 2 - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، فَذَكَرَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَبِيثَ النَّفْسِ ، فَقُلْتُ : أَرَاكَ خَبِيثَ النَّفْسِ ؟ قَالَ : " وَمَا لِي لَا أَكُونُ خَبِيثَ النَّفْسِ وَقَدْ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ هَؤُلَاءِ آنِفًا وَقَدْ أَكَلُوا خُبْزًا وَلَحْمًا وَصَلَّوْا وَلَمْ يَتَوَضَّؤُوا " .
ترجمہ

ابو قلابہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا لیکن وہ موجود نہ تھے، چنانچہ میں انتظار میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ وہ تشریف لے آئے، وہ اس حال میں آئے کہ سخت غصے میں تھے، میں نے ان سے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا: ”ہم اس شخص یعنی حجاج کے پاس تھے، کھانا لایا گیا تو ان سب نے کھایا، پھر وہ اٹھے اور انہوں نے نماز پڑھ لی اور (آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد) نیا وضو نہیں کیا، میں نے اس سے پوچھا: کیا تم لوگ پہلے ایسا نہیں کیا کرتے تھے؟ تو اس نے کہا: نہیں، ہم ایسا نہیں کرتے تھے۔“
ایک دوسری سند میں امام ابو قلابہ سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو نہایت بوجھل اور مکدر طبیعت کے ساتھ دیکھا تو میں نے عرض کیا: کیا بات ہے میں آپ کو پریشان حال دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ”بھلا میں کیوں رنجیدہ نہ ہوں جبکہ میں ابھی ابھی ان لوگوں کے پاس سے اٹھ کر آیا ہوں جنہوں نے روٹی اور گوشت تناول کیا اور پھر وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده صحيح. »
«أخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 487، والبزار فى «مسنده» برقم: 6687، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 125، 125/2، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 670، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 560، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 6720»