المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ وَبَيَانِ نَسْخِهِ باب: آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو اور اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 126
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَوَضَّؤُوا ، وَالْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ، وَمِمَّا يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ " .ترجمہ
نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تم وضو کیا کرو، اور وضو ان تمام چیزوں (کے کھانے) سے (لازم) ہے جنہیں آگ نے بدل دیا ہو (یعنی آگ پر پکائی گئی ہوں) اور ان چیزوں سے بھی جو ﴿مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ﴾ [سورة النحل: 66] یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتی ہیں۔“
یہ روایت آگ پر پکی ہوئی اشیاء کے استعمال سے وضو کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، تاہم محدثین اور فقہاء کی اکثریت کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا آخری عمل آگ پر پکی ہوئی چیزوں سے وضو نہ کرنا ثابت ہے، نیز دودھ پینے کے بعد کلی کرنا مسنون ہے وضو واجب نہیں۔