❮
❯
حدیث نمبر: 126
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَوَضَّؤُوا ، وَالْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ، وَمِمَّا يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ " .
ترجمہ

نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تم وضو کیا کرو، اور وضو ان تمام چیزوں (کے کھانے) سے (لازم) ہے جنہیں آگ نے بدل دیا ہو (یعنی آگ پر پکائی گئی ہوں) اور ان چیزوں سے بھی جو ﴿مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ﴾ [سورة النحل: 66] یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتی ہیں۔“
یہ روایت آگ پر پکی ہوئی اشیاء کے استعمال سے وضو کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، تاہم محدثین اور فقہاء کی اکثریت کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا آخری عمل آگ پر پکی ہوئی چیزوں سے وضو نہ کرنا ثابت ہے، نیز دودھ پینے کے بعد کلی کرنا مسنون ہے وضو واجب نہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 126
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 126، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 566، 638، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 366»