المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ وَبَيَانِ نَسْخِهِ باب: آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو اور اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 124
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، كَانَ يَتَوَضَّأُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ، وَيُحَدِّثُ " أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ " .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ان اشیاء کے استعمال کے بعد وضو کیا کرتے تھے جنہیں آگ نے (پکا کر) تبدیل کر دیا ہو، اور وہ یہ تذکرہ بھی کرتے تھے کہ ”سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بھی ایسی چیز کے کھانے کے بعد وضو فرمایا تھا جسے آگ نے بدلا (یعنی پکایا) تھا۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے اور یہ آگ سے پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے اس ابتدائی حکم پر محمول ہے جو بعد ازاں منسوخ ہو گیا تھا۔