المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ وَبَيَانِ نَسْخِهِ باب: آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو اور اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عِيسَى ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ لَحْمًا فَأَكَلَ ، فَلَمَّا قَامَ أَخَذَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِرِدَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : أَلَا تَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِمَّ يَا بُنَيَّةُ ؟ " فَقَالَتْ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا : مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَلَيْسَ أَطْهَرُ طَعَامِنَا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ؟ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْحَارِثُ ، وَأَبُو يَعْلَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ، عَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَوْصُولًا .یحیٰی بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے گوشت پیش کیا جسے آپ ﷺ نے تناول فرمایا، پھر جب آپ ﷺ (وہاں سے) اٹھنے لگے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی چادرِ مبارک پکڑ لی اور عرض گزار ہوئیں: ”کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟“ تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے میری پیاری بیٹی! کس وجہ سے (وضو کروں)؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اس کھانے کی وجہ سے جسے آگ نے بدل دیا (یعنی پکا دیا) ہے۔“ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا ہمارا سب سے پاکیزہ کھانا وہی نہیں ہوتا جسے آگ نے پکا کر تیار کیا ہو؟“۔
اسے امام احمد، حارث اور ابویعلیٰ نے ایک دوسرے طریق سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔