❮
❯
حدیث نمبر: 132
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيِّ ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ كَتِفًا بَارِدًا ، فَكُنْتُ أَسْحَاهَا ، فَأَكَلَهَا ، ثُمَّ قَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى .
ترجمہ

سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں (بکری کے) شانے کا ٹھنڈا گوشت پیش کیا، میں اسے ہڈی سے کھرچ کر اور صاف کر کے آپ ﷺ کے لیے تیار کر رہی تھی، چنانچہ آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور پھر (آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نئے سرے سے وضو کیے بغیر) کھڑے ہوئے اور نماز ادا فرمائی۔“
اس حدیث کو امام ترمذی نے ’الشمائل المحمدية‘ (171)، امام احمد بن حنبل (26391) اور امام نسائی (184) نے روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں موجود راوی اسحاق ہاشمی کی توثیق میں ائمہ کے ہاں کلام پایا جاتا ہے، تاہم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا حکم دیگر صحیح ترین احادیث سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 132
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لذاته. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 1333، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 636»