المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ وَبَيَانِ نَسْخِهِ باب: آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو اور اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 127
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ خَالَتِهِ ، أَوْ عَمَّتِهِ - شَكَّ يَحْيَى - وَكَانَتِ امْرَأَةَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَتْ : " إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ " .ترجمہ
محمود بن عمرو اپنی خالہ یا پھوپھی سے روایت کرتے ہیں (راوی یحییٰ کو اس میں شک ہے) جو کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ ”بے شک سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہر اس چیز کے کھانے کے بعد وضو کیا کرتے تھے جسے آگ نے بدلا ہو (یعنی آگ پر پکا ہوا کھانا کھانے کے بعد وضو فرماتے تھے)۔“
یہ روایت اس فقہی موقف کی عکاسی کرتی ہے جس میں آگ پر پکی ہوئی اشیاء کے استعمال سے وضو کو لازم یا مستحب سمجھا جاتا تھا، اگرچہ جمہور صحابہ اور ائمہ کے نزدیک بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا۔