❮
❯
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَخَلْفَهُ أَصْحَابُهُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ أَعْمَى فَوَطِئَ عَلَى خَصَفَةٍ عَلَى رَأْسِ بِئْرٍ فَتَرَدَّى فِي الْبِئْرِ ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ " .
ترجمہ
ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے (نماز میں) شریک تھے، اسی دوران ایک نابینا شخص آیا اور اس کا پاؤں کنویں کے دہانے پر پڑی ہوئی کھجور کے پتوں کی ایک چٹائی پر پڑ گیا جس کی وجہ سے وہ کنویں میں گر پڑا، (یہ دیکھ کر) مقتدیوں میں سے کچھ لوگ ہنس پڑے، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم ارشاد فرمایا کہ ”جس شخص کو (نماز میں) ہنسی آئی ہے وہ اپنا وضو دوبارہ کرے۔“
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت مرسل ہے کیونکہ ابوالعالیہ تابعی ہیں اور انہوں نے براہِ راست نبی کریم ﷺ کا زمانہ نہیں پایا، تاہم فقہائے احناف کے نزدیک نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹنے کے مسئلے میں ایسی ہی مرسل روایات بنیاد بنتی ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 122
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده واهٍ جدًا. »
«أخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 690، والدارقطني فى «سننه» برقم: 603، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 122، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3760، 3761، 3762، 3763، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 3938، وأخرجه أبو داود فى "المراسيل"، 8»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " مَنْ ضَحِكَ فِي الصَّلَاةِ فَلَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ " .
123 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي يَضْحَكُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ : " يُعِيدُ الصَّلَاةَ ، وَلَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ " .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو شخص نماز کے دوران ہنس دے تو اس پر وضو کرنا لازم نہیں ہے۔“
امام ابو یعلیٰ کی روایت میں ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو نماز کی حالت میں ہنس پڑتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”ایسا شخص اپنی نماز کا اعادہ کرے گا، لیکن وضو کا اعادہ نہیں کرے گا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 123
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف صحيح
قال الدارقطني: رفع هذا الحديث ضعيف ووقفه هو الصحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (2 / 402) »
«أخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 682، 683، والدارقطني فى «سننه» برقم: 647، 648، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2313، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 123 ، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3766، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 3929»