عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْبَاقِي يَهْبِطُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، ثُمَّ تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَقُولُ : هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى سُؤْلَهُ ؟ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَسْطَعَ الْفَجْرُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے ، پھر آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، پھر وہ اپنا دست رحمت پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے : کیا کوئی اس سے مانگنے والا ہے ؟ کہ اس کے مانگنے کے مطابق اسے عطا کیا جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ایسا اُس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ : هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَيُغْفَرُ لَهُ ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ فِي اللَّيْلِ سَاعَةً يُنَادِي مُنَادٍ " . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِ لَفْظِ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر رات میں ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے : کیا کوئی دعا کرنے والا ہے ؟ کہ اس کی دعا مستجاب ہو ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی مغفرت مانگنے والا ہے کہ اس کی مغفرت ہو جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ایسا صبح صادق ہونے تک ہوتا رہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” رات میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے جس میں ایک منادی اعلان کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے امام أحمد کے الفاظ کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے ، ویسے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” رات میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے جس میں ایک منادی اعلان کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے امام أحمد کے الفاظ کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے ، ویسے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ فَيُنَادِي مُنَادٍ : هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى ؟ هَلْ مِنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجُ عَنْهُ ؟ فَلَا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ ، إِلَّا زَانِيَةً تَسْعَى بِفَرْجِهَا أَوْ عَشَّارًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص ثقفی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نصف رات کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے : کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اسکی دعا مستجاب ہو ؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی پریشان حال ہے کہ اسے کشادگی نصیب ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو جو بھی مسلمان اس وقت دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی عورت کا معاملہ مختلف ہے ، جو اپنی زنا کی کمائی کھاتی ہے ، اور بھتہ وصول کرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَنْزِلُ اللَّهُ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ : هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ ہر رات میں آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کروں ؟ کیا کوئی مغفرت مانگنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ایسا صبح صادق ہونے تک ہوتا رہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قُلْتُ : وَمَتْنُهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، فَيَقُولُ قَائِلٌ : أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى ؟ أَلَا دَاعٍ يُجَابُ ؟ أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى ؟ أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرُ لَهُ ؟ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : "أَلَا تَائِبٌ " . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا متن یہ ہے : ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور میں عشاء کی نماز رات کے پہلے ایک تہائی حصے کے رخصت ہونے تک مؤخر کرتا ، جب رات کا پہلا ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور صبح صادق ہونے تک مسلسل وہاں رہتا ہے ، اس دوران ایک کہنے والا یہ کہتا ہے : کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ وہ مستجاب ہو ؟ کیا کوئی بیمار ہے جو شفاء کا طلبگار ہو ، تو اسے شفاء نصیب ہو ، کیا کوئی گناہ گار ہے جو مغفرت طلب کرے اور اس کی مغفرت ہو جائے ؟ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اور ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا متن یہ ہے : ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور میں عشاء کی نماز رات کے پہلے ایک تہائی حصے کے رخصت ہونے تک مؤخر کرتا ، جب رات کا پہلا ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور صبح صادق ہونے تک مسلسل وہاں رہتا ہے ، اس دوران ایک کہنے والا یہ کہتا ہے : کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ وہ مستجاب ہو ؟ کیا کوئی بیمار ہے جو شفاء کا طلبگار ہو ، تو اسے شفاء نصیب ہو ، کیا کوئی گناہ گار ہے جو مغفرت طلب کرے اور اس کی مغفرت ہو جائے ؟ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اور ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَقِيَ ثُلُثُ اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ : مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَرْزِقُنِي فَأَرْزُقَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَكْشِفُ الضُّرَّ أَكْشِفُهُ عَنْهُ ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : کون ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی دعا کو قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے ، تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے رزق مانگے ، تو میں اسے رزق عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے تکلیف دور کرنے کا کہے ، تو میں اس کی تکلیف دور کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ایسا صبح صادق ہونے تک ہوتا رہتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَنْزِلُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا نِصْفَ اللَّيْلِ الْآخِرِ - أَوِ الثُّلُثَ - فَيَقُولُ : مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، وَيَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ : " وَيَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خُلَيْفٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” رات کے آخری نصف حصے میں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) رات کے آخری ایک تہائی حصے میں ، اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : کون ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے ، جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی اور جب تک نمازی صبح کی نماز سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” جب تک نمازی ، نماز سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خلیف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” جب تک نمازی ، نماز سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خلیف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ رَبُّنَا - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ ، فَيَقُولُ : أَلَا عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ أَلَا ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ يَدْعُونِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ أَلَا مُقْتِرٌ فَأَرْزُقَهُ ؟ أَلَا مَظْلُومٌ يَدْعُونِي فَأَنْصُرَهُ ؟ أَلَا عَانٍ فَأَفُكُّ عَنْهُ ؟ فَيَكُونُ كَذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ الصُّبْحُ ، ثُمَّ يَعْلُو - جَلَّ وَعَزَّ - عَلَى كُرْسِيِّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : " أَلَا مَظْلُومٌ ( يُذَكِّرُنِي ) فَأَنْصُرَهُ ؟ أَلَا عَانٍ ( يَدْعُونِي ) فَأُعِينَهُ ؟ " . قَالَ : " فَيَكُونُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الصُّبْحُ " . وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مُوسَى بْنِ عَقْبَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا پروردگار آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : کیا میرے بندوں میں سے کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کیا اپنے اوپر ظلم کرنے والا کوئی ایسا فرد نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے رزق میں تنگی ہو ، کیا کوئی مظلوم نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ؟ کیا کوئی قیدی نہیں ہے کہ میں اسے چھڑوا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ایسا اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی ، پھر پروردگار اوپر اپنی کرسی پر چلا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کیا کوئی مظلوم نہیں ہے جو میرا ذکر کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ، کیا کوئی قیدی نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ایسا اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی ۔ “ یحیی بن اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ اور کسی نے یحیی سے روایت نقل نہیں کی ہے ، کبیر کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کیا کوئی مظلوم نہیں ہے جو میرا ذکر کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ، کیا کوئی قیدی نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ایسا اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی ۔ “ یحیی بن اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ اور کسی نے یحیی سے روایت نقل نہیں کی ہے ، کبیر کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ يَبْقِينَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَنْظُرُ فِي السَّاعَةِ الْأُولَى فِي الْكِتَابِ الَّذِي لَا يَنْظُرُ فِيهِ غَيْرُهُ ، فَيَمْحُو مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ، وَيَنْظُرُ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ وَهِيَ مَسْكَنُهُ الَّتِي لَا يَكُونُ فِيهَا مَعَهُ إِلَّا الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ وَالصِّدِّيقُونَ ، وَفِيهَا مَا لَمْ يَرَهُ أَحَدٌ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، ثُمَّ يَهْبِطُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ فَيَقُولُ : أَلَا مُسْتَغْفِرٌ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ أَلَا سَائِلٌ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ أَلَا دَاعٍ يَدْعُونِي ؟ وَلِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ : ( وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ) فَيَشْهَدُهُ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ زِيَادَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب رات کی آخری تین گھڑیاں رہ جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نزول کرتا ہے ، پہلی گھڑی میں وہ اس کتاب کو دیکھتا ہے کہ اس کتاب میں ، وہ اس گھڑی کے علاوہ نہیں دیکھتا اور جس چیز کو چاہتا ہے اسے مٹا دیتا ہے ، اور جس کو چاہتا ہے اسے برقرار رکھتا ہے ، دوسری گھڑی میں وہ جنت عدن کو دیکھتا ہے ، جو اس کی رہائشی جگہ ہے ، اور اس جنت میں اس کے ساتھ صرف انبیاء ، شہداء اور صدیقین ہوں گے ، اور اس جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی ، جو کسی نے نہیں دیکھی ہیں ، اور کسی انسان کے دل میں ان کا خیال بھی نہیں آیا ، پھر وہ رات کی آخری گھڑی میں نیچے اترتا ہے اور فرماتا ہے : کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے ، جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کر دوں ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے جو مجھ سے دعا کرے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اور فجر کی تلاوت ، بیشک فجر کی تلاوت میں موجودگی ہوتی ہے ۔ “ یعنی اس میں اللہ تعالیٰ اور فرشتے موجود ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیادہ بن محمد انصاری ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیادہ بن محمد انصاری ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ اللَّيْلِ أَجْوَبُ دَعْوَةً ؟ قَالَ : " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَالْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ فِي بَابِ " صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے بلند آواز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : رات کا کون سا حصہ دعا کے قبول ہونے کے لئے زیادہ موزوں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری نصف حصہ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار اور کبیر کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے رات اور دن کے نوافل دو دو کر کے پڑھنے سے متعلق باب میں ، سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار اور کبیر کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے رات اور دن کے نوافل دو دو کر کے پڑھنے سے متعلق باب میں ، سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَيُسْتَجَابُ الدُّعَاءُ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاطِنَ : عِنْدَ الْتِقَاءِ الصُّفُوفِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَعِنْدَ نُزُولِ الْغَيْثِ ، وَعِنْدَ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ ، وَعِنْدَ رُؤْيَةِ الْكَعْبَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار قسم کی صورتحال میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا مستجاب ہوتی ہے ، جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں صفیں ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں ، بارش کے نزول کے وقت ، نماز قائم ہونے کے وقت اور خانہ کعبہ کی زیارت کے وقت ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
وَعَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ : كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ سَحَرًا فَأَسْمَعُهُ يَقُولُ : اللَّهُمَّ ( إِنَّكَ ) دَعَوْتَنِي فَأَجَبْتُ ، وَأَمَرْتَنِي فَأَطَعْتُ ، وَهَذَا سَحَرٌ فَاغْفِرْ لِي ، فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ ( لَهُ ) : كَلِمَاتٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُهُنَّ مِنَ السَّحَرِ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِهِنَّ ، فَقَالَ : إِنَّ يَعْقُوبَ أَخَّرَ بَنِيهِ إِلَى السَّحَرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
محارب بن دثار اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں سحری کے وقت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے کے پاس سے گزر رہا تھا ، تو میں نے انہیں یہ دعا کرتے ہوئے سنا : ” اے اللہ ! تو نے مجھے بلایا تو میں آیا ، تو نے مجھے حکم دیا تو میں نے اطاعت کی ، یہ سحری کا وقت ہو گیا ہے ، تو میری مغفرت کر دے ۔ “
راوی کہتے ہیں : پھر میری اُن سے ملاقات ہوئی ، میں نے ان سے کہا: میں نے آپ کو سحری کے وقت کچھ کلمات پڑھتے ہوئے سنا تھا پھر میں نے انہیں ان کلمات کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنے صاحبزادوں ( کے لیے دعا ) کو سحری تک موخر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
راوی کہتے ہیں : پھر میری اُن سے ملاقات ہوئی ، میں نے ان سے کہا: میں نے آپ کو سحری کے وقت کچھ کلمات پڑھتے ہوئے سنا تھا پھر میں نے انہیں ان کلمات کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنے صاحبزادوں ( کے لیے دعا ) کو سحری تک موخر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔