حدیث نمبر: 17250
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ رَبُّنَا - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ ، فَيَقُولُ : أَلَا عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ أَلَا ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ يَدْعُونِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ أَلَا مُقْتِرٌ فَأَرْزُقَهُ ؟ أَلَا مَظْلُومٌ يَدْعُونِي فَأَنْصُرَهُ ؟ أَلَا عَانٍ فَأَفُكُّ عَنْهُ ؟ فَيَكُونُ كَذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ الصُّبْحُ ، ثُمَّ يَعْلُو - جَلَّ وَعَزَّ - عَلَى كُرْسِيِّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : " أَلَا مَظْلُومٌ ( يُذَكِّرُنِي ) فَأَنْصُرَهُ ؟ أَلَا عَانٍ ( يَدْعُونِي ) فَأُعِينَهُ ؟ " . قَالَ : " فَيَكُونُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الصُّبْحُ " . وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مُوسَى بْنِ عَقْبَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا پروردگار آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : کیا میرے بندوں میں سے کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کیا اپنے اوپر ظلم کرنے والا کوئی ایسا فرد نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے رزق میں تنگی ہو ، کیا کوئی مظلوم نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ؟ کیا کوئی قیدی نہیں ہے کہ میں اسے چھڑوا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ایسا اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی ، پھر پروردگار اوپر اپنی کرسی پر چلا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کیا کوئی مظلوم نہیں ہے جو میرا ذکر کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ، کیا کوئی قیدی نہیں ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی مدد کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ایسا اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی ۔ “ یحیی بن اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ اور کسی نے یحیی سے روایت نقل نہیں کی ہے ، کبیر کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17250
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف