کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس بات کا بیان کہ جس چیز کئے ذریعے دعا کا آغاز کیا جائے ؟ پہلے اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا جائے
حدیث نمبر: 17255
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْأَلَ فَلْيَبْدَأْ بِالْمِدْحَةِ وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ لِيَسْأَلْ بَعْدُ ; فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يَنْجَحَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب تم میں سے کوئی ایک شخص دعا مانگنا چاہے ، تو پہلے اسے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثنا بیان کرنی چاہیے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیے ، پھر دعا مانگنی چاہیے ، کیونکہ اب وہ اس بات کے زیادہ لائق ہو گی کہ وہ کامیاب ہو ( یعنی قبول ہو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17255
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8780)»
حدیث نمبر: 17256
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجْعَلُونِي كَقَدَحِ الرَّاكِبِ ; فَإِنَّ الرَّاكِبَ يَمْلَأُ قَدَحَهُ ، فَإِذَا فَرَغَ وَعَلَّقَ مَعَالِيقَهُ ; فَإِنْ كَانَ لَهُ فِي الشَّرَابِ حَاجَةٌ أَوِ الْوُضُوءِ ، وَإِلَّا أَهْرَقَ الْقَدَحَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - فَاذْكُرُونِي فِي أَوَّلِ الدُّعَاءِ ، وَفِي وَسَطِهِ ، وَفِي آخِرِ الدُّعَاءِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم مجھے یوں نہ بناؤ ، جیسے سوار کا پیالہ ہوتا ہے ، کیونکہ سوار اپنے پیالے کو بھرتا ہے ، جب وہ فارغ ہوتا ہے تو اسے لٹکا دیتا ہے ، اگر اسے مشروب کی ضرورت ہو ، یا وضو کرنا ہو تو استعمال کر لیتا ہے ، ورنہ اسے بہا دیتا ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” تم دعا کے آغاز میں اور اس کے درمیان میں اور دعا کے آخر میں میرا ذکر کرو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17256
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3156)»
حدیث نمبر: 17257
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ صَلِّ عَلَيَّ ، ثُمَّ ادْعُهُ " . ¤ ثُمَّ صَلَّى آخَرُ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ تُعْطَهْ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : ثُمَّ صَلَّى آخَرُ إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَحَدِيثُهُ فِي الرِّقَاقِ مَقْبُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، اسی دوران ایک شخص اندر آیا ، اس نے نماز ادا کی پھر اس نے کہا: اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے نمازی ! تم نے جلدی کی ہے ، جب تم نماز ادا کر لو ، تو تم بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد بیان کرو ، پھر مجھ پر درود بھیجو اور پھر اس سے دعا کرو ۔ “ پھر ایک اور شخص نے نماز ادا کی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تو مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” پھر اس کے بعد ایک اور شخص نے نماز ادا کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث ، دلوں کو نرم کرنے والے موضوعات کے بارے میں مقبول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے متعلق احادیث آگے آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17257
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (308/18)»
حدیث نمبر: 17258
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ الزُّرَقِيِّ ، وَهُوَ يُصَلِّي ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا مَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابوعیاش زید بن صامت زرقی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، وہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے اور یہ دعا کر رہے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا مَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اس وسیلے سے کہ حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اے بہت زیادہ احسان کرنے والے ، اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے جلال اور اکرام والے ! ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس نے اللہ تعالیٰ کے اُس اسم اعظم کے وسیلے سے دعا کی ہے کہ جب اُس کے وسیلے سے دعا کی جائے ، تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، اور جب اُس اسم کے وسیلے سے کچھ مانگا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اگرچہ وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17258
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1038) اخرجه احمد فى المسند (265/3)»
حدیث نمبر: 17259
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى عَلَى رَجُلٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . فَقَالَ : " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس آئے جو یہ کہہ رہا تھا :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»
” اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اس وسیلے سے کہ حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو بہت زیادہ احسان کرنے والا ہے ، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے ، اے جلال اور اکرام والے ! “ ۔
راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم کے وسیلے سے دعا کی ہے کہ جب اس کے وسیلے سے دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17259
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4722)»
حدیث نمبر: 17260
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِ : " سُبْحَانَ رَبِّي الْعَلِيِّ الْأَعْلَى الْوَهَّابِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعا کرتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے آغاز میں یہ پڑھتے تھے :
«سُبْحَانَ رَبِّي الْعَلِيِّ الْأَعْلَى الْوَهَّابِ»
” میرے پروردگار کی ذات ہر عیب سے پاک ہے جو عظمت والا ہے ، بلند و برتر ہے ، بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد یمامی ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17260
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6253) اخرجه احمد فى المسند (45/4)»
حدیث نمبر: 17261
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْءٌ لَا يُرَدُّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . تَقُولُ : أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْلَى ، الْأَعَزِّ ، الْأَجَلِّ ، الْأَكْرَمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ایسی دعا ہے جو رد نہ ہوتی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم یہ پڑھو :
«أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْلَى ، الْأَعَزِّ ، الْأَجَلِّ ، الْأَكْرَمِ» ” میں تجھ سے تیرے اس اسم کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو بلند و برتر ہے ، غلبے والا ہے ، جلیل القدر ہے ، عزت والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17261
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12015)»
حدیث نمبر: 17262
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَقَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي اسْمَ اللَّهِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى ، فَأَعْرَضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَجْهِهِ ، فَقَامَتْ فَتَوَضَّأَتْ فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، وَبِاسْمِكَ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ ، وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ . فَقَالَ : " وَاللَّهِ ، إِنَّهَا لَفِي هَذِهِ الْأَسْمَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں صبح کے وقت تشریف لائے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کا وہ اسم تعلیم دیں کہ جب اس کے وسیلے سے دعا کی جائے ، تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، اور جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے ، تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے چہرہ پھیر لیا ، وہ خاتون کھڑی ہوئیں ، انہوں نے وضو کیا اور یہ کہا:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، وَبِاسْمِكَ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ ، وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے ساری کی ساری بھلائی مانگتی ہوں ، وہ جس کا مجھے علم ہے اور وہ بھی جس کا مجھے علم نہیں ہے ، اور میں تیرے اس عظیم اسم کے وسیلے سے دعا مانگتی ہوں کہ جب اُس کے وسیلے سے تجھ سے دعا مانگی جائے ، تو تُو دعا قبول کرتا ہے ، اور جب اس کے وسیلے سے تجھ سے مانگا جائے ، تو تُو عطا کرتا ہے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم وہ ( اسم ) ان اسماء میں سے ایک ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ عصری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17262
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17263
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ : ( قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ) " . إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جِسْرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کا وہ اسم اعظم کہ جب اُس کے وسیلے سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، وہ سورۂ آل عمران کی اس آیت میں ہے :
﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ﴾ [آل عمران : 26]
” تم یہ کہہ دو ! اے اللہ ! حکومت کے مالک ، تو جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17263
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12792)»
حدیث نمبر: 17264
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ دَعَا بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ الْخَمْسِ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ان پانچ کلمات کے ہمراہ دعا کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا ، اللہ تعالیٰ وہ چیز اس کو عطا کرے گا :
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالی کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17264
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (361/19)»
حدیث نمبر: 17265
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ الْعَصْرَ ، وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ، فَمَرَّ كَلْبٌ لِيَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ ، فَأَشْفَقَ أَنْ يَمُرَّ عَلَيْهِ ، فَدَعَا سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَلَى الْكَلْبِ فَأَهْلَكَهُ اللَّهُ بِقُدْرَتِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ صَلَاتِهِ نَظَرَ إِلَى الْكَلْبِ قَدْ هَلَكَ قَالَ : " مَنِ الدَّاعِي مِنْكُمْ عَلَى هَذَا الْكَلْبِ ؟ " . فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ، فَأَعَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ سَعْدٌ عِنْدَ ذَلِكَ : أَنَا الدَّاعِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَشْفَقْتُ أَنْ يَقْطَعَ عَلَيْكَ صَلَاتَكَ فَدَعَوْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ دَعَوْتَ عَلَيْهِ يَا سَعْدُ ؟ " . فَقَالَ سَعْدٌ : سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، أَهْلِكْ هَذَا الْكَلْبَ قَبْلَ أَنْ يَقْطَعَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَاتَهُ . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا سَعْدُ ، لَقَدْ دَعَوْتَ فِي يَوْمٍ وَسَاعَةٍ بِكَلِمَاتٍ لَوْ دَعَوْتَ عَلَى مَنْ بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَاسْتُجِيبَ لَكَ ، فَأَبْشِرْ يَا سَعْدُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن سنا ، آپ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی ، آپ پہلی دو رکعت ادا کرنے کے بعد تشہد میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک کتا آگے سے گزرنے لگا تاکہ آپ کی نماز کو منقطع کر دے ، آپ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ کتا آپ کے آگے سے نہ گزر جائے ، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس کتے کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے تحت اسے ہلاکت کا شکار کر دیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے کتے کی طرف دیکھا کہ وہ مر چکا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کس نے اس کتے کے خلاف دعا کی ہے ؟ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے اس کے خلاف دعا کی تھی ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ آپ کی نماز منقطع نہ کر دے ، تو میں نے اس کے خلاف دعا کر دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم نے اس کے خلاف کیسے دعا کی ؟ سیدنا سعد نے کہا: ( میں نے یہ کلمات پڑھے : )
«سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، أَهْلِكْ هَذَا الْكَلْبَ قَبْلَ أَنْ يَقْطَعَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَاتَهُ»
” تو ہر عیب سے پاک ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اے جلال اور اکرام والے ! تو اس کتے کو ہلاکت کا شکار کر دے ، اس سے پہلے کہ یہ تیرے نبی کی نماز کو توڑ دے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے ایک مخصوص دن میں ، ایک مخصوص گھڑی میں ایسے کلمات کے ہمراہ دعا کی ہے کہ اگر تم آسمانوں اور زمین کے درمیان موجود سب چیزوں کے خلاف دعا کرتے ، تو تمہاری دعا مستجاب ہو جاتی ، تو اے سعد ! تم یہ خوشخبری حاصل کرو ! ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17265
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13611)»
حدیث نمبر: 17266
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا طَلَبْتَ حَاجَةً فَأَحْبَبْتَ أَنْ تَنْجَحَ فَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْحَكِيمُ الْكَرِيمُ ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْحَكِيمُ ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ : ( كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ ) ، ( كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا ) ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ ، وَالسَّلَامَةِ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ ، اللَّهُمَّ لَا تَدَعْ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ ، وَلَا حَاجَةً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا قَضَيْتَهَا بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم کوئی حاجت طلب کرو اور تمہاری یہ خواہش ہو کہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤ ( یعنی تمہاری دعا دعا قبول ہو جائے ) تو تم یہ پڑھو :
« لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْحَكِيمُ الْكَرِيمُ بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْحَكِيمُ ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» : ﴿كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [الأحقاف : 3] ، ﴿كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا﴾ [النازعات : 46] ، «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍ ۔ وَالسَّلَامَةِ مِنْ كُلِّ اثْمٍ ، اللهُمَّ لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا هَمَّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ ، وَلَا دَيْنَا إِلَّا قَضَيْتَهُ وَلَا حَاجَةً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا قَضَيْتَهَا بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ بلندی والا اور عظمت والا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، وہ حکمت والا اور عزت والا ہے ، اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ زندہ اور حکمت والا ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔
( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن وہ لوگ اس ( قیامت ) کو دیکھیں گے ، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے ( تو یوں محسوس کریں گے ) گویا وہ ( دنیا میں ) صرف اتنا عرصہ رہے جتنا دن کی ایک گھڑی ( یعنی ایک پہر ) ہوتا ہے ( یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) پیغام ہے ( تو اس قیامت کے دن ) صرف فاسق ( یعنی کفر ) ہی ہلاکت کا شکار ہونگے ۔ “
( ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن وہ لوگ اس ( قیامت ) کو دیکھیں گے ( تو یوں محسوس کریں گے ) گویا وہ ( دنیا میں ) صرف اتنا عرصہ رہے ، جتنا شام یا دن چڑھے کا وقت ہوتا ہے ۔ “ اے اللہ ! میں تجھ سے وہ چیز مانگتا ہوں ، جو تیری رحمت کو واجب کر دے اور تیری مغفرت کو پختہ کر دے ، اور ہر نیکی کے حوالے سے غنیمت ہو ، اور ہر گناہ کے حوالے سے سلامتی ہو ، اے اللہ ! تو میرے ہر گناہ کی مغفرت کر دینا اور ہر پریشانی کو ختم کر دینا اور ہر قرض کو ادا کروا دینا اور دنیا اور آخرت کی حاجات میں سے ہر ایک حاجت کو اپنی رحمت کے وسیلے سے پورا کر دینا ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (341)»
حدیث نمبر: 17267
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِأَعْرَابِيٍّ ، وَهُوَ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا مَنْ لَا تَرَاهُ الْعُيُونُ ، وَلَا تُخَالِطُهُ الظُّنُونُ ، وَلَا يَصِفُهُ الْوَاصِفُونَ ، وَلَا تُغَيِّرُهُ الْحَوَادِثُ ، وَلَا يَخْشَى الدَّوَائِرَ ، يَعْلَمُ مَثَاقِيلَ الْجِبَالِ ، وَمَكَايِيلَ الْبِحَارِ ، وَعَدَدَ قَطْرِ الْأَمْطَارِ ، وَعَدَدَ وَرَقِ الْأَشْجَارِ ، وَعَدَدَ مَا أَظْلَمَ عَلَيْهِ اللَّيْلُ ، وَأَشْرَقَ عَلَيْهِ النَّهَارُ ، وَمَا تَوَارَى مِنْ سَمَاءٍ سَمَاءً ، وَلَا أَرْضٍ أَرْضًا ، وَلَا بَحْرٍ مَا فِي قَعْرِهِ ، وَلَا جَبَلٍ مَا فِي وَعْرِهِ ، اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ ، وَخَيْرَ عَمَلِي خَوَاتِيمَهُ ، وَخَيْرَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ فِيهِ . ¤ فَوَكَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَعْرَابِيِّ رَجُلًا فَقَالَ : " إِذَا صَلَّى فَائْتِنِي بِهِ " . فَلَمَّا صَلَّى أَتَاهُ وَقَدْ كَانَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبٌ مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ ، فَلَمَّا أَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ وَهَبَ لَهُ الذَّهَبَ وَقَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ يَا أَعْرَابِيُّ ؟ " . قَالَ : مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرِي لِمَ وَهَبْتُ لَكَ الذَّهَبَ ؟ " . قَالَ : لِلرَّحِمِ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ لِلرَّحِمِ حَقًّا ، وَلَكِنْ وُهِبْتُ لَكَ الذَّهَبَ بِحُسْنِ ثَنَائِكَ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک دیہاتی کے پاس سے ہوا ، وہ اپنی نماز کے دوران دعا کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا :
«يَا مَنْ لَا تَرَاهُ الْعُيُونُ ، وَلَا تُخَالِطُهُ الظُّنُونُ ، وَلَا يَصِفُهُ الْوَاصِفُونَ ، وَلَا تُغَيِّرُهُ الْحَوَادِثُ ، وَلَا يَخْشَى الدَّوَائِرَ ، يَعْلَمُ مَثَاقِيلَ الْجِبَالِ ، وَمَكَايِيلَ الْبِحَارِ ، وَعَدَدَ قَطْرِ الْأَمْطَارِ ، وَعَدَدَ وَرَقِ الْأَشْجَارِ ، وَعَدَدَ مَا أَظْلَمَ عَلَيْهِ اللَّيْلُ ، وَأَشْرَقَ عَلَيْهِ النَّهَارُ ، وَمَا تَوَارَى مِنْ سَمَاءٍ سَمَاءً ، وَلَا أَرْضٍ أَرْضًا ، وَلَا بَحْرٍ مَا فِي قَعْرِهِ ، وَلَا جَبَلٍ مَا فِي وَعْرِهِ ، اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ ، وَخَيْرَ عَمَلِي خَوَاتِيمَهُ ، وَخَيْرَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ فِيهِ»
” اے وہ ذات ! جسے آنکھیں دیکھ نہیں سکتی ہیں ، اور گمان ، جس کے ساتھ مل نہیں سکتے ہیں ، صفت بیان کرنے والے اس کی حقیقی صفت بیان نہیں کر سکتے ہیں ، حادثات اسے تبدیل نہیں کر سکتے ہیں ، وہ تبدیلیوں سے ڈرتا نہیں ہے ، وہ پہاڑوں کے وزن اور سمندروں کی گہرائی اور بارشوں کے قطروں کے بارے میں اور درختوں کے پتوں کے بارے میں اور جن چیزوں پر رات کی تاریکی آتی ہے ، اور جن پر دن کی روشنی آتی ہے ، ان کی تعداد کے بارے میں علم رکھتا ہے ، آسمان کا کوئی حصہ اور زمین کا کوئی حصہ اس سے پوشیدہ نہیں ہے ، سمندر اس کی تہوں میں جو کچھ ہے ، پہاڑوں اور ان کی چوٹیوں پر جو کچھ ہے ، کچھ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے ( اے اللہ ! ) تو میری عمر کے آخری حصے کو سب سے بہتر حصہ بنا دے اور میرے اختتامی عمل کو سب سے بہتر عمل بنا دے ، اور میرے دنوں میں سب سے بہتر دن اُس دن کو بنا دے ، جس دن میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اُس دیہاتی کے پاس مقرر کیا اور فرمایا : جب یہ نماز ادا کر لے گا تو اسے میرے پاس لے کے آنا ، جب اس نے نماز ادا کر لی اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معدنیات میں سے کچھ سونا تحفے کے طور پر دیا گیا تھا ، جب وہ دیہاتی آپ کے پاس آیا تو آپ نے وہ سونا اسے عطا کر دیا اور فرمایا : اے اعرابی ! تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : بنو عامر بن صعصعہ سے ہے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ، میں نے تمہیں سونا کیوں دیا ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان رشتہ داری کا تعلق ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رشتہ داری کا بھی حق ہوتا ہے لیکن میں نے تمہیں یہ سونا اس لئے دیا ہے کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی اچھے طریقے سے ثناء بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن محمد بن ابوعبدالرحمن اذری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17267
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17268
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَلِظُّوا بَيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیعہ بن عامر بن بجاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : «يا ذا الجلال و الاكرام» پڑھتے رہا کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17268
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4594) اخرجه احمد فى المسند (177/4)»
حدیث نمبر: 17269
وَعَنِ السَّرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ طَيِّئٍ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا - قَالَ : كُنْتُ أَسْأَلُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُرِيَنِي الِاسْمَ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، فَرَأَيْتُ مَكْتُوبًا فِي الْكَوْكَبِ فِي السَّمَاءِ : يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سری بن یحیی طے قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے اس شخص کی تعریف کی ہے ، وہ شخص کہتا ہے : ” میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتا تھا کہ مجھے وہ ” اسم “ دکھائے کہ جب اُس کے وسیلے سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، تو میں نے آسمان میں ایک ستارے میں یہ لکھا ہوا دیکھا :
«يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»
” اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے جلال اور اکرام والے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17269
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7206)»
حدیث نمبر: 17270
وَعَنْ فُرَاتِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : أَلَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَقُولُ فِيهِنَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ؟ " تَمَّ نُورُكَ فَهَدَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، عَظُمَ حِلْمُكَ فَعَفَوْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، فَبَسَطْتَ يَدَكَ فَأَعْطَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، رَبَّنَا وَجْهُكَ أَكْرَمُ الْوُجُوهِ ، وَجَاهُكَ أَعْظَمُ الْجَاهِ ، وَعَطِيَّتُكَ أَفْضَلُ الْعَطِيَّةِ وَأَهْنَأُهَا ، تُطَاعُ رَبَّنَا فَتَشْكُرُ ، وَتُعْصَى رَبَّنَا فَتَغْفِرُ ، وَتُجِيبُ الْمُضْطَرَّ ، وَتَكْشِفُ الضُّرَّ ، وَتَشْفِي السَّقَمَ ، وَتَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَتَقْبَلُ التَّوْبَةَ ، وَلَا يَجْزِي بِآلَائِكَ أَحَدٌ ، وَلَا يَبْلُغُ مِدْحَتَكَ قَوْلُ قَائِلٍ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْفُرَاتُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا ، وَالْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
فرات بن سلمان بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک شخص کھڑا ہو کر چار رکعت ادا کرے اور ان میں وہ پڑھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے :
«تَمَّ نُورُكَ فَهَدَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، عَظُمَ حِلْمُكَ فَعَفَوْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، فَبَسَطْتَ يَدَكَ فَأَعْطَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، رَبَّنَا وَجْهُكَ أَكْرَمُ الْوُجُوهِ ، وَجَاهُكَ أَعْظَمُ الْجَاهِ ، وَعَطِيَّتُكَ أَفْضَلُ الْعَطِيَّةِ وَأَهْنَأُهَا ، تُطَاعُ رَبَّنَا فَتَشْكُرُ ، وَتُعْصَى رَبَّنَا فَتَغْفِرُ ، وَتُجِيبُ الْمُضْطَرَّ ، وَتَكْشِفُ الضُّرَّ ، وَتَشْفِي السَّقَمَ ، وَتَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَتَقْبَلُ التَّوْبَةَ ، وَلَا يَجْزِي بِآلَائِكَ أَحَدٌ ، وَلَا يَبْلُغُ مِدْحَتَكَ قَوْلُ قَائِلٍ» ” تیرا نور مکمل ہے ، تو نے ہدایت عطا کی ، حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، تیری بردباری عظیم ہے ، تو نے درگزر کیا ، حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، تو نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور عطا کیا ، تو حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، اے ہمارے پروردگار ! تیرا چہرہ سب سے زیادہ معزز ہے ، تیری شان سب سے زیادہ عظمت والی ہے ، تیرا عطیہ سب سے زیادہ فضیلت والا اور عمدہ عطیہ ہے ، اے ہمارے پروردگار ! تیری اطاعت کی جائے ، تو تُو شکر قبول کرتا ہے ، اے ہمارے پروردگار ! اگر تیری نافرمانی کی جائے تو تُو مغفرت کرتا ہے ، تو پریشان حال کی دعا قبول کرتا ہے اور پریشانی کو ختم کر دیتا ہے ، تو بیماری کو شفا نصیب کرتا ہے ، تو گناہ کی مغفرت کرتا ہے ، تو توبہ قبول کرتا ہے ، کوئی تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دے سکتا اور کسی کہنے والے کا قول تیری تعریف تک نہیں پہنچ سکتا ۔ “

یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، فرات نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ، جسے ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17270
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ومنقطع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (440)»
حدیث نمبر: 17271
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ثَمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ ، فَأَتَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ : عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، هَلْ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْءٌ ؟ مَرَّتَيْنِ قَالَ : ( لَا ) وَمَا ذَاكَ ؟ ! قُلْتُ : لَا إِلَّا أَنِّي مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ آنِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ، ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عُثْمَانَ فَدَعَاهُ فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَكُونَ رَدَدْتَ عَلَى أَخِيكَ السَّلَامَ ؟ قَالَ عُثْمَانُ : مَا فَعَلْتُ . قَالَ : قُلْتُ : بَلَى . ( قَالَ ) حَتَّى حَلَفَ وَحَلَفْتُ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ ذَكَرَ فَقَالَ : بَلَى . وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، إِنَّكَ مَرَرْتَ بِي آنِفًا ، وَإِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( لَا ) وَاللَّهِ ، مَا ذَكَرْتُهَا قَطُّ إِلَّا تَغْشَى بَصَرِي ، وَقَلْبِي غِشَاوَةٌ . قَالَسَعْدٌ : فَأَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ، ثُمَّ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَشَغَلَهُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتَّبَعْتُهُ ، فَلَمَّا أَشْفَقْتُ أَنْ يَسْبِقَنِي إِلَى مَنْزِلِهِ ضَرَبْتُ بِقَدَمِي الْأَرْضَ ; فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ أَبُو إِسْحَاقَ ؟ ! " . قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَمَهْ ؟ " . قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، أَلَا إِنَّكَ ذَكَرْتَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ، ثُمَّ جَاءَكَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ فَشَغَلَكَ ، قَالَ : " نَعَمْ . دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ : لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ; فَإِنَّهُ لَنْ يَدْعُوَ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) میرا گزر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو مسجد میں موجود تھے ، میں نے انہیں سلام کیا ، انہوں نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا ، لیکن مجھے سلام کا جواب نہیں دیا ، میں امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! کیا اسلام میں کوئی نئی چیز سامنے آ گئی ہے ؟ یہ میں نے دو مرتبہ کہا: ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! کیا ہوا ہے ؟ میں نے کہا: جی نہیں ! ہوا یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں سیدنا عثمان کے پاس سے گزرا ، جو مسجد میں موجود تھے ، میں نے انہیں سلام کیا ، انہوں نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا ، لیکن پھر مجھے سلام کا جواب نہیں دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت کیا : آپ نے اپنے بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تو ایسا نہیں کیا ( سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) میں نے کہا: جی ہاں ! ( یعنی آپ نے ایسا کیا ہے ) راوی کہتے ہیں : یہاں تک کہ انہوں نے بھی حلف اٹھا لیا اور میں نے بھی حلف اُٹھا لیا راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یاد آیا ، تو انہوں نے کہا: جی ہاں ! ( یعنی ایسا ہوا ہو گا ) میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ، تھوڑی دیر پہلے تم میرے پاس سے گزرے تھے ، میں اس وقت ایک چیز کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھی ، مجھے جب بھی اس بات کا خیال آتا ہے ، تو میری نگاہ پر پردہ آ جاتا ہے اور میرے دل پر پردہ آ جاتا ہے ( یعنی میری تمام تر توجہ اس بات کی طرف مبذول ہو جاتی ہے ) ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک دعا کا ذکر کیا ، ایک دیہاتی آپ کے پاس آ گیا اور آپ اس کے ساتھ مصروف ہو گئے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر گئے تو میں آپ کے پیچھے چل پڑا ، جب مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ آپ مجھ سے پہلے گھر پہنچ جائیں گے ، تو میں نے اپنا پاؤں زور سے زمین پر مارا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور دریافت کیا : کون ہے ؟ کیا ابواسحاق ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! کوئی بات نہیں ہے ، صرف یہ ہے کہ آپ نے ہمارے سامنے ایک دعا کا ذکر کیا تھا ، پھر وہ دیہاتی آ گیا ، اور آپ اس کے ساتھ مصروف ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! وہ سیدنا ذوالنون ( یعنی سیدنا یونس علیہ السلام ) کی دعا ہے ، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : )
﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء : 87] ” تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، بے شک میں ظالموں میں سے تھا ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی مسلمان ان کلمات کے ذریعے اپنے پروردگار سے ، جس بھی چیز کے بارے میں دعا کرے گا ، تو پروردگار اس کی دعا کو قبول کرے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال اور امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن محمد بن سعد بن ابی وقاص کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17271
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1462)»
حدیث نمبر: 17272
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - قَالَ : أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتِ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَعَظَّمَ الرَّبَّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَقَالَ : " إِنَّ كُرْسِيَّهُ وَسِعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَإِنَّ لَهُ أَطِيطٌ كَأَطِيطِ الرَّحْلِ الْجَدِيدِ ، إِذَا رُكِبَ مِنْ ثِقَلِهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ الْهَمَذَانِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بولی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پروردگار کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اس کی کرسی آسمانوں اور زمین سے زیادہ بڑی ہے اور اس میں سے آواز آتی ہے ، جس طرح نئے پالان میں سے آواز آتی ہے ، جب اس پر بوجھ لادا جائے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن خلیفہ ہمذانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17273
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا قَالَ الْعَبْدُ : يَا رَبِّ ، أَرْبَعًا ، قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : لَبَّيْكَ عَبْدِي ، سَلْ تُعْطَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بندہ چار مرتبہ یہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! اے میرے پروردگار ! تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں متوجہ ہوں , اے میرے بندے ! تم مانگو تمہیں دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن سعید اموی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17273
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3145)»
حدیث نمبر: 17274
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - قَالَ : ضَافَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَيْفًا ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِهِ يَبْتَغِي عِنْدَهُنَّ طَعَامًا فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ ; فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهُمَا إِلَّا أَنْتَ " . فَأُهْدِيَتْ إِلَيْهِ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَقَالَ : " هَذِهِ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مہمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو پیغام بھیجا ، تاکہ ان سے کھانے کے لیے کچھ حاصل کریں ، تو آپ کو ان میں سے کسی کے ہاں سے بھی کچھ نہیں ملا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ ; فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهُمَا إِلَّا أَنْتَ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں ، کیونکہ ان دونوں کا مالک صرف تو ہی ہے ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : پھر بکری کا بھنا ہوا گوشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا حصہ ہے ، اور ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کا انتظار کر رہے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن زیاد برجمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17274
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10379)»
حدیث نمبر: 17275
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : يَا بَادِئُ لَا بَدْءَ لَكَ ، وَيَا دَائِمُ لَا نَفَادَ لَكَ ، وَيَا حَيُّ مُحْيِيَ الْمَوْتَى ، أَنْتَ الْقَائِمُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ یہ کہا: کرتے تھے : ” اے آغاز کرنے والے ! تیرے لیے کوئی آغاز نہیں ہے ، اے ہمیشہ رہنے والے ! تیرا کوئی اختتام نہیں ہے ، اے زندہ ! اے مردوں کو زندگی دینے والے ، تو اس چیز کا نگہبان ہے جو ہر جان نے کمایا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17275
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8893)»
حدیث نمبر: 17276
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قُومُوا نَسْتَغِيثُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَا يُسْتَغَاثُ بِي ، إِنَّمَا يُسْتَغَاثُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَهُوَ فِي الْأَدَبِ فِي بَابِ الْقِيَامِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ اُٹھو ! تاکہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منافق کے بارے میں مدد مانگیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھ سے مدد نہیں مانگی جاتی ہے ، مدد اللہ تعالی سے مانگی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے اور یہ کتاب ” الادب “ میں قیام کرنے سے متعلق باب میں مذکور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17276
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 17277
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُنَادِي مُنَادٍ فِي النَّارِ : يَا حَنَّانُ ، يَا مَنَّانُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص جہنم میں پکار کر یہ کہے گا : ” یا حنان ، یا منان “ ( یعنی بہت زیادہ مہربان ، بہت زیادہ احسان کرنے والے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17277
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔