مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ أَوْقَاتِ الْإِجَابَةِ . باب: دعا کی قبولیت کے اوقات
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قُلْتُ : وَمَتْنُهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، فَيَقُولُ قَائِلٌ : أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى ؟ أَلَا دَاعٍ يُجَابُ ؟ أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى ؟ أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرُ لَهُ ؟ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : "أَلَا تَائِبٌ " . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا متن یہ ہے : ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور میں عشاء کی نماز رات کے پہلے ایک تہائی حصے کے رخصت ہونے تک مؤخر کرتا ، جب رات کا پہلا ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور صبح صادق ہونے تک مسلسل وہاں رہتا ہے ، اس دوران ایک کہنے والا یہ کہتا ہے : کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ وہ مستجاب ہو ؟ کیا کوئی بیمار ہے جو شفاء کا طلبگار ہو ، تو اسے شفاء نصیب ہو ، کیا کوئی گناہ گار ہے جو مغفرت طلب کرے اور اس کی مغفرت ہو جائے ؟ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اور ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔