مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ أَوْقَاتِ الْإِجَابَةِ . باب: دعا کی قبولیت کے اوقات
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ يَبْقِينَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَنْظُرُ فِي السَّاعَةِ الْأُولَى فِي الْكِتَابِ الَّذِي لَا يَنْظُرُ فِيهِ غَيْرُهُ ، فَيَمْحُو مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ، وَيَنْظُرُ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ وَهِيَ مَسْكَنُهُ الَّتِي لَا يَكُونُ فِيهَا مَعَهُ إِلَّا الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ وَالصِّدِّيقُونَ ، وَفِيهَا مَا لَمْ يَرَهُ أَحَدٌ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، ثُمَّ يَهْبِطُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ فَيَقُولُ : أَلَا مُسْتَغْفِرٌ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ أَلَا سَائِلٌ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ أَلَا دَاعٍ يَدْعُونِي ؟ وَلِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ : ( وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ) فَيَشْهَدُهُ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ زِيَادَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب رات کی آخری تین گھڑیاں رہ جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نزول کرتا ہے ، پہلی گھڑی میں وہ اس کتاب کو دیکھتا ہے کہ اس کتاب میں ، وہ اس گھڑی کے علاوہ نہیں دیکھتا اور جس چیز کو چاہتا ہے اسے مٹا دیتا ہے ، اور جس کو چاہتا ہے اسے برقرار رکھتا ہے ، دوسری گھڑی میں وہ جنت عدن کو دیکھتا ہے ، جو اس کی رہائشی جگہ ہے ، اور اس جنت میں اس کے ساتھ صرف انبیاء ، شہداء اور صدیقین ہوں گے ، اور اس جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی ، جو کسی نے نہیں دیکھی ہیں ، اور کسی انسان کے دل میں ان کا خیال بھی نہیں آیا ، پھر وہ رات کی آخری گھڑی میں نیچے اترتا ہے اور فرماتا ہے : کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے ، جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کر دوں ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے جو مجھ سے دعا کرے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اور فجر کی تلاوت ، بیشک فجر کی تلاوت میں موجودگی ہوتی ہے ۔ “ یعنی اس میں اللہ تعالیٰ اور فرشتے موجود ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیادہ بن محمد انصاری ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔