حدیث نمبر: 17249
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَنْزِلُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا نِصْفَ اللَّيْلِ الْآخِرِ - أَوِ الثُّلُثَ - فَيَقُولُ : مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، وَيَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ : " وَيَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خُلَيْفٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” رات کے آخری نصف حصے میں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) رات کے آخری ایک تہائی حصے میں ، اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : کون ہے جو مجھ سے دعا کرے ، تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے تو میں اس کی مغفرت کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے ، جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی اور جب تک نمازی صبح کی نماز سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” جب تک نمازی ، نماز سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خلیف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17249
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3154)»