حدیث نمبر: 17254
وَعَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ : كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ سَحَرًا فَأَسْمَعُهُ يَقُولُ : اللَّهُمَّ ( إِنَّكَ ) دَعَوْتَنِي فَأَجَبْتُ ، وَأَمَرْتَنِي فَأَطَعْتُ ، وَهَذَا سَحَرٌ فَاغْفِرْ لِي ، فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ ( لَهُ ) : كَلِمَاتٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُهُنَّ مِنَ السَّحَرِ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِهِنَّ ، فَقَالَ : إِنَّ يَعْقُوبَ أَخَّرَ بَنِيهِ إِلَى السَّحَرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

محارب بن دثار اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں سحری کے وقت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے کے پاس سے گزر رہا تھا ، تو میں نے انہیں یہ دعا کرتے ہوئے سنا : ” اے اللہ ! تو نے مجھے بلایا تو میں آیا ، تو نے مجھے حکم دیا تو میں نے اطاعت کی ، یہ سحری کا وقت ہو گیا ہے ، تو میری مغفرت کر دے ۔ “
راوی کہتے ہیں : پھر میری اُن سے ملاقات ہوئی ، میں نے ان سے کہا: میں نے آپ کو سحری کے وقت کچھ کلمات پڑھتے ہوئے سنا تھا پھر میں نے انہیں ان کلمات کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اپنے صاحبزادوں ( کے لیے دعا ) کو سحری تک موخر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17254
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8548)»