حدیث نمبر: 17245
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ فَيُنَادِي مُنَادٍ : هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى ؟ هَلْ مِنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجُ عَنْهُ ؟ فَلَا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ ، إِلَّا زَانِيَةً تَسْعَى بِفَرْجِهَا أَوْ عَشَّارًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان بن ابوالعاص ثقفی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نصف رات کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے : کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اسکی دعا مستجاب ہو ؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی پریشان حال ہے کہ اسے کشادگی نصیب ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو جو بھی مسلمان اس وقت دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی عورت کا معاملہ مختلف ہے ، جو اپنی زنا کی کمائی کھاتی ہے ، اور بھتہ وصول کرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17245
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7391)»