کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والوں کے فضائل کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَأَبُوهُ وَأُمُّهُ أَهْلَ بَيْتِ إِسْلَامٍ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، ان کے والد اور اُن کی والدہ ، یہ سب اسلام کے اہل بیت ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15578
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
قَالَ ابْنُ هِشَامٍ : عَمَّارُ بْنُ يَاسِرِ بْنِ عَبْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مَذْحِجٍ ، شَهِدَ بَدْرًا وَالْمَشَاهِدَ كُلَّهَا . وَيُقَالُ : إِنَّ اسْمَ أُمِّهِ سُمَيَّةُ بِنْتُ سَلَمِ بْنِ لَخْمٍ . يُكَنَّى : أَبَا الْيَقْظَانِ ، قُتِلَ مَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَوْمَ صِفِّينَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن ہشام بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار بن یاسر بن عبس بن زید بن مذحج ، انہیں غزوہ بدر اور دیگر تمام غزوات میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، ایک قول کے مطابق ان کی والدہ کا نام سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا بنت سلم بن لخم تھا ۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی کنیت ” ابویقظان “ ہے ، وہ سن 37 ہجری میں ، جنگ صفین میں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15579
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احد فى المسند (8439)»
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ : هَاجَرَ أَبُو سَلَمَةَ وَأُمُّ سَلَمَةَ ، وَخَرَجَ مَعَهُمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَكَانَ حَلِيفًا لَهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہجرت کے لیے نکلے ، تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی اُن کے ساتھ چلے گئے ، وہ اُن لوگوں کے حلیف تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس مکی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15580
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ : قُلْتُ لِعَطَّافِ بْنِ خَالِدٍ : أَرَأَيْتَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ كَانَ حَلِيفًا لَكُمْ ؟ قَالَ : بَلْ مَوْلَانَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَعَطَّافٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن ابومریم بیان کرتے ہیں : میں نے عطاف بن خالد سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے ؟ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تم لوگوں کے حلیف تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : بلکہ وہ ہمارے آقا ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ” منقطع “ ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عوف ہے ، جس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15581
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
وَعَنْ أَبِي كَعْبٍ الْحَارِثِيِّ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَجَاءَ رَجُلٌ آدَمُ ، أَصْلَعُ ، فِي مَقْدِمِ رَأْسِهِ شَعَرَاتٌ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوکعب حارثی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اسی دوران گندمی رنگت کے ایک صاحب آئے ، جن کے سر کے اگلے حصے پر چند ایک بال تھے ، اور اُن کی گدی کے پاس چند بال تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن جبل ہے اور امام ذہبی کہتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15582
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ مَنْفَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ عَمَّارًا بِالْكُنَاسَةِ أَسْوَدَ جَعْدًا وَهُوَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ : وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
کلیب بن منفعت ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” میں نے ” کناسہ “ میں ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ سیاہ فام تھے اور گھنگریالے بالوں کے مالک تھے ، وہ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : ” اور اس کی نشانیوں میں ایک یہ چیز بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم بشر ( یعنی بنی نوع انسان بن کر ) پھیل گئے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15583
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَوْمَ صِفِّينَ آدَمَ طِوَالًا بِيَدِهِ الْحَرْبَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے موقع پر ، میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ گندمی رنگت کے مالک ، طویل القامت شخص تھے ، اور اُن کے ہاتھ میں نیزہ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15584
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَعِنْدَهُ خَيَّاطٌ يَقْطَعُ بُرْدًا عَلَى قَطِيفَةِ ثَعَالِبَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مطرف بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے پاس ایک درزی موجود تھا ، وہ ثعالب کی چادر پر ( شاید یہ مراد ہے لومڑی کے چمڑے کے بچھونے پر ) رکھ کر کپڑے کو کاٹ رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : يَا أَجْدَعُ . وَكَانَتْ أُذُنُهُ جُدِعَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : خَيْرَ أُذُنَيْ سَبَبْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ : الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ : وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کٹے ہوئے عضو والے ! سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے کان ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے ہوئے کاٹ دیے گئے تھے ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : میرے کان بہتر ہیں ، جنہیں تم نے برا کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں : ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15586
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : لَقِيَ عَلِيٌّ رَجُلَيْنِ قَدْ خَرَجَا مِنَ الْحَمَّامِ مُتَدَهِّنَيْنِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتُمَا ؟ قَالَا : مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ : كَذَبْتُمَا ، أَنْتُمَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ؟ إِنَّمَا الْمُهَاجِرُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ملاقات دو افراد سے ہوئی ، وہ دونوں حمام سے نکلے تھے اور ان دونوں نے تیل لگایا ہوا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم دونوں کون ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : مہاجرین سے تعلق رکھتے ہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم دونوں غلط کہہ رہے ہو ، کیا تم دونوں مہاجرین سے تعلق رکھتے ہو گے ؟ مہاجر تو عمار بن یاسر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15587
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : مَا رَأَيْتُ مِثْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، كَانَا لَا يُحِبَّانِ أَنْ يُعْصَ اللَّهُ طَرْفَةَ عَيْنٍ ، وَلَا يُخَالِفَا الْحَقَّ قَيْدَ شَعَرَةٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ الصَّلْتِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے افراد نہیں دیکھے ، یہ دونوں اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ وہ پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں ، اور یہ دونوں بال برابر بھی حق کی مخالفت نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن حجاج بن صلت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15588
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ : دَعَا عُثْمَانُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكُمْ ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي ، نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ ، وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ أُعْطِيَتْهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ . ¤ فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ - يَعْنِي عَمَّارًا - ؟ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى بِالْبَطْحَاءِ ، حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ ، فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الدَّهْرُ هَكَذَا ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اصْبِرْ " . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ ، وَقَدْ فَعَلْتَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سالم بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ حضرات کو بلایا ، جن میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ لوگوں سے کچھ پوچھنے لگا ہوں اور میری یہ خواہش ہے کہ آپ لوگ میری تصدیق کریں ، میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو دیگر تمام لوگوں پر ترجیح دیتے تھے ؟ اور بنو ہاشم کو دیگر تمام قریش پر ترجیح دیتے تھے ؟ تو تمام حاضرین خاموش ہو گئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر میرے ہاتھ میں جنت کی کنجیاں ہوتیں ، تو میں نے وہ بنوامیہ کو دیدینی تھیں ، یہاں تک کہ اُن کا ہر ایک فرد جنت میں داخل ہو جاتا ، پھر انہوں نے سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیج کر بلوایا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس کے بارے میں بتاؤں ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مراد سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تھے ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ہم بطحاء میں چلتے ہوئے جا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر عمار کے والد اور والدہ کے پاس سے ہوا ، جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا ، عمار کے والد نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : تم صبر سے کام لو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! تو آل یاسر کی مغفرت کر دے ، ویسے تو ایسا کر چکا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15589
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِأَبِي عَمَّارٍ وَأُمِّ عَمَّارٍ وَعَمَّارٍ : " اصْبِرُوا آلَ يَاسِرٍ مَوْعِدُكُمُ الْجَنَّةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمار کے والد ، عمار کی والدہ اور عمار سے یہ فرماتے ہوئے سنا : ” اے آل یاسر ! تم صبر سے کام لو ، تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15590
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (303/24)»
وَعَنْ عَمَّارٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اصْبِرُوا آلَ يَاسِرٍ مَوْعِدُكُمُ الْجَنَّةُ " .رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے آل یاسر ! تم صبر سے کام لو ، تمہارے ساتھ جنت کا وعدہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15591
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَبِأَهْلِهِ يُعَذَّبُونَ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ : " أَبْشِرُوا آلَ يَاسِرٍ مَوْعِدُكُمُ الْجَنَّةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقَوِّمِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کے پاس سے ہوا ، جنہیں اللہ کی راہ میں عذاب دیا جا رہا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے آل یاسر ! تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ تمہارے ساتھ جنت کا وعدہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن عبدالعزیز مقوم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15592
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1531)»
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مُضْطَجِعًا فِي حِجْرِ عَمَّارٍ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ : مَاذَا يَقُولُ الْمُشْرِكُونَ آنِفًا لِهَذَا - يَعْنِي عَمَّارًا - ؟ قَالَ : فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ ، وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِهِ حَتَّى أَحَاطَ بِظَهْرِهِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُمْ لَيَحْرُزُونَ أَدِيمًا طَيِّبًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَضُعِّفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک شخص اندر آیا اور اس نے دریافت کیا : اب مشرکین اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ اس کی مراد سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پیچھے کی طرف لے جا کر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی پشت پر رکھ کر ، انہیں اپنے بازو کے گھیرے میں لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر اس وقت ان کی گود میں تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان لوگوں نے پاکیزہ چمڑے کو سرخ رنگ ( یعنی خون ) میں رنگ دینا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے ، ویسے اُس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15593
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : كَانَ عَمَّارُ يَقُولُ : قَاتَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجِنَّ وَالْإِنْسَ ، أَرْسَلَنِي إِلَى بِئْرِ بَدْرٍ ، فَلَقِيتُ الشَّيْطَانَ فِي صُورَةِ الْإِنْسِ ، فَصَارَعَنِي فَصَرَعْتُهُ ، فَجَعَلْتُ أَدُقُّهُ بِفِهْرٍ مَعِي أَوْ حَجَرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَمَّارٌ لَقِيَ الشَّيْطَانَ عِنْدَ الْبِئْرِ فَقَاتَلَهُ " . فَمَا عَدَا أَنْ رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " ذَاكَ الشَّيْطَانُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ : يَعْقُوبِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَخْرَمِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَالْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جنات اور انسانوں سے جنگ کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بدر کے کنویں کی طرف بھیجا ، میری ملاقات انسانی شکل میں موجود ، ایک شیطان سے ہوئی ، اس نے میرے ساتھ مقابلہ کیا ، تو میں نے اُسے پچھاڑ دیا ، میں نے اپنے پاس موجود پتھر کے ذریعے اُسے کچلنا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کنویں کے پاس عمار کا سامنا ، شیطان سے ہوا ، تو عمار نے اُس کے ساتھ مقابلہ کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں واپس آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شیطان تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یعقوب بن اسحاق مخرمی سے نقل کی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15594
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارٍ كَلَامٌ ، فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ ، فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : فَجَعَلَ يَغْلُظُ لَهُ ، وَلَا يَزِيدُهُ إِلَّا غِلْظَةً ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِتٌ ، فَبَكَى عَمَّارٌ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَرَاهُ ؟ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فَقَالَ : " مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ " . ¤ قَالَ خَالِدٌ : فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَا عَمَّارٍ ، فَلَقِيتُهُ فَرْضِيَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میرے اور عمار کے درمیان کسی بات پر تکرار ہو گئی ، میں نے اُن کے خلاف سختی سے بات کی ، تو عمار میری شکایت کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا ، اسی دوران سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ، وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شکایت کرنا چاہتے تھے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : انہوں نے عمار کے ساتھ زیادہ سختی سے بات کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران خاموش رہے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ رونے لگے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور ارشاد فرمایا : ” جو شخص عمار سے عداوت رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے عداوت رکھے اور جو شخص عمار سے بغض رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے بغض رکھے ۔ “ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں وہاں سے نکلا ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی رضامندی سے زیادہ میرے نزدیک اور کوئی چیز محبوب نہیں تھی ، میں اُن سے ملا اور وہ راضی ہو گئے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15595
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (89/4)»
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَخْوَفَ عِنْدِي عَلَى أَنْ يُدْخِلَنِي النَّارَ مِنْ شَأْنِ عَمَّارٍ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا سُلَيْمَانَ وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَأَصَبْتُهُمْ وَفِيهِمْ أَهْلُ بَيْتِ مُسْلِمِينَ ، فَكَلَّمَنِي عَمَّارٌ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَرْسِلْهُمْ ، فَقُلْتُ : لَا حَتَّى آتِيَ بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنْ شَاءَ أَرْسَلَهُمْ ، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهِمْ مَا أَرَادَ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ فَدَخَلَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى خَالِدٍ فَعَلَ وَفَعَلَ ، فَقَالَ خَالِدٌ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا مَجْلِسُكَ مَا سَبَّنِي ابْنُ سُمَيَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْرُجْ يَا عَمَّارُ " . فَخَرَجَ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالَ : مَا نَصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَالِدٍ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَجَبْتَ الرَّجُلَ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مَنَعَنِي مِنْهُ إِلَّا مَحْقَرَتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَحْقِرْ عَمَّارًا يَحْقِرْهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسُبَّ عَمَّارًا يَسُبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَنْتَقِصْ عَمَّارًا يَنْتَقِصْهُ اللَّهُ " . فَخَرَجْتُ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى اسْتَغْفَرَ لِي . وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ يُعَادِ عَمَّارًا يُعَادِهِ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُطَوَّلًا وَمُخْتَصَرًا بِأَسَانِيدَ ، مِنْهَا مَا وَافَقَ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَمِنْهَا مَا هُوَ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا ، جس کے بارے میں مجھے یہ اندیشہ ہو کہ وہ عمل مجھے جہنم میں داخل کروا دے گا ، البتہ اس معاملے کا حکم مختلف ہے ، جو عمار کے حوالے سے پیش آیا ، ہم نے دریافت کیا ہے : اے ابوسلیمان ! وہ کیا معاملہ ہے ؟ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ہمراہ مجھے عربوں کے ایک قبیلے کی طرف بھیجا ، میں نے ان لوگوں پر حملہ کیا ، اس قبیلے میں مسلمانوں کے کچھ گھرانے بھی تھے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ ان افراد کے بارے میں بات چیت کی اور یہ کہا: آپ انہیں چھوڑ دیں ، میں نے کہا: ایسا اُس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک میں انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں لے جاتا ، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں گے تو انھیں چھوڑ دیں گے ، اور اگر چاہیں گے تو جو سلوک چاہیں گے ، ان کے ساتھ کریں گے ۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی ، پھر وہ اندر آ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا ؟ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے یہ کام کیا ہے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر آپ کی محفل نہ ہوتی ، تو سمیہ کا بیٹا ( یعنی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ) مجھے برا نہیں کہہ سکتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمار ! تم باہر چلے جاؤ ، تو وہ روتے ہوئے باہر گئے ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے خلاف میری مدد نہیں کی ( سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : تم نے اُسے جواب کیوں نہیں دیا ؟ میں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میں نے ایسا اس لئے نہیں کیا کیونکہ وہ فقیر آدمی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عمار کو حقیر سمجھے ، اللہ تعالیٰ اسے حقیر سمجھے ، جو شخص عمار کو برا کہے ، اللہ تعالیٰ اُسے برا کہے ، جو شخص عمار کی تنقیص کرے ، اللہ تعالیٰ اُس کی تنقیص کرے ۔ “ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں باہر آ کر سیدنا عمار کے پیچھے گیا ، یہاں تک کہ انہوں نے میرے لیے دعائے مغفرت کی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص عمار سے دشمنی رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے دشمنی رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ طویل اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں کچھ امام أحمد کی سند کے موافق ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور ان میں سے کچھ روایات ” مرسل “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15596
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3832)»
(کتاب میں موجود نہیں ہے)
محمد محی الدین
(کتاب میں نہیں ہے)
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15597
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3835)»
- وَفِي الْأَوْسَطِ مِنْهُ : " مَنْ سَبَّ عَمَّارًا سَبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ " . فَقَطْ . وَفِي إِسْنَادِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ مُخْتَلَفٌ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
معجم اوسط میں اس روایت میں سے یہ الفاظ مذکور ہیں : ” جو شخص عمار کو برا کہے ، اللہ تعالیٰ اُسے برا کہے ، جو شخص عمار سے بغض رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے بغض رکھے ۔ “ اس کی سند میں ایک سے زیادہ ایسے افراد ہیں ، جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15598
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : مَا كُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ يُحِبُّ رَجُلًا فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ النَّارَ . ¤ قِيلَ : قَدْ كَانَ يَسْتَعْمِلُكَ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ رَجُلًا قَالُوا : مَنْ هُوَ ؟ قَالَ : عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَزَادَ فِيهِ : قَالَ : ذَاكَ قَتِيلُكُمْ يَوْمَ صِفِّينَ قَالَ : [ قَدْ ] وَاللَّهِ قَتَلْنَاهُ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ نَحْوُهُ بِمَحَبَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَمَّارٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا ، تو اس وقت آپ جس شخص سے محبت رکھتے تھے ، اللہ تعالیٰ اُسے جہنم میں داخل نہیں کرے گا ، اُن سے کہا: گیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آپ کو بھی عامل ( یعنی لشکر کا امیر ) مقرر کیا تھا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ بہتر جانتا ہے ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے محبت رکھتے تھے ، لوگوں نے دریافت کیا : وہ کون ہے ؟ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : عمار بن یاسر ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کسی شخص نے کہا: وہ تو جنگ صفین میں ، آپ کے ہاتھوں مارے گئے تھے ، تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ۔ “ اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت سے متعلق باب میں اس نوعیت کی حدیث گزر چکی ہے ، جس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتے تھے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15599
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (615)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كَمْ مِنْ ذِي طِمْرَ بْنِ لَا ثَوْبَ لَهُ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، مِنْهُمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ قِرْطَاسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کتنے ہی دو چھوٹی چادروں والے ایسے ہوتے ہیں ، جن کے پاس مناسب لباس نہیں ہوتا ، لیکن اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیں ، تو اللہ تعالیٰ اُسے پوری کروا دیتا ہے اور اُن ( لوگوں ) میں سے ایک عمار بن یاسر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن قرطاس ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15600
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ : أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ أَقْسَمَ يَوْمَ أُحُدٌ فَهُزِمَ الْمُشْرِكُونَ ، وَأَقْسَمَ يَوْمَ الْجَمَلِ فَغَلَبُوا أَهْلَ الْبَصْرَةِ ، وَقِيلَ لَهُ يَوْمَ صِفِّينَ : لَوْ أَقْسَمْتَ ! فَقَالَ : لَوْ ضَرَبُونَا بِأَسْيَافِهِمْ حَتَّى نَبْلُغَ سَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَلِمْنَا أَنَّا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ، فَلَمْ يُقْسِمْ ، فَقُتِلَ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ يَوْمَ أُحُدٍ : أَقْسَمْتُ يَا جِبْرِيلُ وَيَا مِيكَالُ : لَا يَغْلِبَنَّا مَعْشَرٌ ضُلَّالٌ إِنَّا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ جُهَّالٌ . ¤ حَتَّى خَرَقَ صَفَّ الْمُشْرِكِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی تھی ، تو مشرکین پسپا ہو گئے تھے اور جنگ جمل کے دن اُنہوں نے قسم اٹھائی تھی ، تو اہل بصرہ مغلوب ہو گئے تھے ، جنگ صفین کے دن اُن سے کہا: گیا : اگر آپ قسم اُٹھا لیں تو یہ مناسب ہو گا ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ اپنی تلواروں کے ذریعے ہم پر وار کرتے ہوئے ( یعنی ہمیں دھکیلتے ہوئے ) ” سعفات ہجر “ نامی جگہ تک لے جائیں ، تو بھی ہم یہ بات جانتے ہیں کہ بے شک ہم حق پر ہیں اور وہ لوگ باطل پر ہیں ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے قسم نہیں اُٹھائی ، اور اُسی دن وہ شہید ہو گئے ۔ اُنہوں نے غزوہ احد کے دن یہ کہا: تھا : ” اے جبرائیل اور اے میکائیل ، میں یہ قسم اٹھاتا ہوں کہ گمراہ لوگوں کا گروہ ہم پر ہرگز غالب نہیں آئے گا ، بے شک ہم حق پر ہیں اور وہ جاہل لوگ ہیں ۔ “ یہاں تک کہ انہوں نے مشرکین کی صف کو چیر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ سند کے اعتبار سے ” منقطع “ ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15601
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْنُ سُمَيَّةَ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَقْرَانٌ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا ¤ حَتَّى خَرَقَ صَفَّ الْمُشْرِكِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سمیہ کے بیٹے ( یعنی سیدنا عمار بن یاسر ) کے سامنے جب بھی دو مختلف معاملے پیش کئے گئے تو اُس نے ہمیشہ اس کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سے زیادہ رہنمائی والا ہو ( یعنی زیادہ سمجھداری والا ہو ) ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15602
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3693)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْنُ سُمَيَّةَ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ امْرَأَةٌ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سمیہ کے بیٹے (سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ) کے سامنے جب بھی دو معاملے پیش کیے گئے ، تو انہوں نے ان میں سے ہمیشہ زیادہ ہدایت و صواب اور درست راستے ہی کو اختیار کیا“ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15602
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " دَمُ عَمَّارٍ وَلَحْمُهُ حَرَامٌ عَلَى النَّارِ أَنْ تَطْعَمَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عمار کا خون اور اُس کا گوشت ، آگ پر یہ حرام ہے کہ اُن کو کھائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15603
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2684)»
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : مَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ مَا خَلَا عَمَّارًا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مُلِئَ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی بھی فرد کے بارے میں اگر میں چاہوں ، تو کوئی بات کہہ سکتی ہوں ، صرف سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ اپنی ہڈیوں کے کناروں تک ایمان سے بھرا ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15604
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2685)»
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أُتِيَ حُذَيْفَةُ فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، قُتِلَ هَذَا الرَّجُلُ وَقَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيمَا يَقُولُ ؟ قَالَ : أَسْنِدُونِي ، فَأَسْنَدُوهُ إِلَى صَدْرِ رَجُلٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَبُو الْيَقْظَانِ عَلَى الْفِطْرَةِ ، لَا يَدَعُهَا حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَمَسَّهُ الْهَرَمُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
بلال بن یحیی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ، تو ایک شخص سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: اے ابوعبداللہ ! ان صاحب کو قتل کر دیا گیا ہے ، لوگوں میں اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے ٹیک دو ! پھر ایک شخص نے سینے کے ذریعے انہیں ٹیک دی ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ابوالیقظان فطرت پر ہے ، وہ مرتے دم تک فطرت کو نہیں چھوڑے گا ، البتہ اگر اسے بڑھاپا لاحق ہو گیا ، تو معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2686)»
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْتَدُوا بِالَّذِينَ مِنْ بَعْدِي : أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَاهْتَدَوْا بِهَدْيِ عَمَّارِ ، وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " اقْتَدُوا بِالَّذِينَ مِنْ بَعْدِي : أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - " . فَقَطْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد ان دو لوگوں کی پیروی کرنا ، ابوبکر اور عمر اور عمار کی ہدایت کے ذریعے رہنمائی حاصل کرنا ، اور ابن اُم عبد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود ) کے عہد کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” میرے بعد دو افراد کی پیروی کرنا ، ابوبکر اور عمر ۔ “ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15606
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف