کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 15607
عَنْ مَوْلَاةٍ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَتِ : اشْتَكَى عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ شَكْوَى ثَقُلَ مِنْهَا ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ ، فَأَفَاقَ وَنَحْنُ نَبْكِي حَوْلَهُ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكُمْ ؟ أَتَحْسَبُونَ أَنِّي مُتُّ عَلَى فِرَاشِي ؟ أَخْبَرَنِي حَبِيبِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ تَقْتُلُنِي الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، وَأَنَّ آخِرَ زَادِي مَذْقَةً مِنْ لَبَنٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَنِي أَنِّي أُقْتَلُ بَيْنَ صِفِّينَ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ،وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَمَوْلَاةُ عَمَّارٍ لَمْ أَعْرِفْهَا ،وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی کنیز بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے ، ان کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ ان پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، جب انہیں ہوش آیا ، تو ہم ان کے اردگرد بیٹھے ہوئے رو رہے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ کیا تم یہ گمان کر رہے تھے کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا ؟ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، ایک باغی گروہ مجھے قتل کرے گا اور دنیا میں سب سے آخر میں ، میں دودھ پیوں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے : مجھے دو صفوں کے درمیان قتل کیا جائے گا ۔ “ یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی کنیز سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15607
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2688) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1614)»
حدیث نمبر: 15608
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ بِصِفِّينَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ وَهُوَ يُنَادِي : إِنِّي لَقِيتُ الْجَبَّارَ وَتَزَوَّجْتُ الْحُورَ الْعِينَ ، الْيَوْمَ نَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ ، عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ : " آخِرَ زَادِكَ مِنَ الدُّنْيَا ضَيَاحٌ مِنْ لَبَنٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : جنگ صفین میں ، جس دن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ، اُس دن میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا : وہ بلند آواز میں پکار کر یہ کہہ رہے تھے : ” میں جبار کی بارگاہ میں حاضر ہونے لگا ہوں اور میری شادی حورعین سے ہو جائے گی ، اور آج میں اپنے محبوب افراد ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے گروہ سے مل جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ دنیا میں تمہارے استعمال کی آخری چیز وہ پتلا دودھ ہو گا ، جس میں پانی ملا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15608
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2691)»
حدیث نمبر: 15609
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ : أَنَّهُ لَمَّا أُتِيَ بِاللَّبَنِ ضَحِكَ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب اُن کے پاس دودھ لایا گیا ، تو وہ ہنس پڑے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15609
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15610
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِعَمَّارٍ :تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضَرَارُ بْنُ صُرَدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” ایک باغی گروہ تمہیں قتل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15610
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (954)»
حدیث نمبر: 15611
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ واسطی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15611
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4030)»
حدیث نمبر: 15612
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرِو ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْعَرْدِ : أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَمَّارٍ : " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَسْعُودُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ ، قُلْتُ : وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا الْيُسْرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالیسر بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا زیاد بن عرد رضی اللہ عنہ ان دونوں کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ان دونوں حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا : ” تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعود بن سلیمان ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجبول ہے اور زہری نامی راوی نے سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15612
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5296)»
حدیث نمبر: 15613
وَعَنِ ابْنَةِ هِشَامِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ - وَكَانَتْ تُمَرِّضُ عَمَّارًا - قَالَتْ : جَاءَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَمَّارٍ يَعُودُهُ ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنِيَّتَهُ بِأَيْدِينَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَابْنَةُ هُشَامٍ وَالرَّاوِي عَنْهَا لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ہشام بن ولید بن مغیرہ کی صاحبزادی ، جو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کر رہی تھیں ، وہ بیان کرتی ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے ، جب وہ اُن کے پاس سے اُٹھ کر گئے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! تو انہیں ہمارے ہاتھوں موت نہ دینا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ہشام کی صاحبزادی اور اس خاتون سے نقل کرنے والے راوی ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اور ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15613
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7364) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (396/19)»
حدیث نمبر: 15614
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كُنَّا نَنْقُلُ اللَّبِنَ لِلْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً ، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لِبِنَتَيْنِ لِبِنَتَيْنِ ، فَيَنْفُضُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ كَتِفِهِ التُّرَابَ وَقَالَ : " وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ ! تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم مسجد نبوی کی تعمیر کرتے ہوئے ایک ایک اینٹ منتقل کر رہے تھے ، جبکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں منتقل کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے کندھے سے مٹی جھاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے ابن سمیہ ! تمہارا ستیاناس ہو ، ایک باغی گروہ تمہیں قتل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15614
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 15615
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَيْضًا قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، فَجَعَلْنَا نَنْقُلُ لَبِنَةً لَبِنَةً ، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لِبِنَتَيْنِ لِبِنَتَيْنِ قَالَ : فَحَدَّثَنِي أَصْحَابِي وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " يَا ابْنَ سُمَيَّةَ ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسجد کی تعمیر کا حکم دیا ، تو ہم نے ایک ایک اینٹ منتقل کرنا شروع کی ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں منتقل کر رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میرے ساتھیوں نے مجھے یہ بات بتائی ، یہ بات میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نہیں سنی ، ساتھیوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے ابن سمیہ ! ایک باغی گروہ تمہیں قتل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15615
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2678)»
حدیث نمبر: 15616
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْنِي الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا نَقَلَ النَّاسُ حَجَرًا نَقَلَ عَمَّارٌ حَجَرَيْنِ ، فَإِذَا نَقَلُوا لَبِنَةً نَقَلَ لِبِنْتَيْنِ . قَالَ : فَذَكَرَهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تعمیر کروا رہے تھے ، دوسرے لوگ ایک ایک پتھر اٹھا کے لاتے تھے ، جبکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو پتھر اٹھا کر لا رہے تھے ، لوگ ایک ایک اینٹ منتقل کرتے تھے ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں منتقل کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15616
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ا بو يعلى فى المسند (6524)»
حدیث نمبر: 15617
وَعَنْ حَبَّةَ قَالَ : اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . وَصَدَّقَهُ الْآخَرُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ ،وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
حبہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے ، تو ان دونوں صاحبان میں سے ، ایک نے دوسرے سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ایک باغی گروہ ، عمار کو قتل کرے گا ، تو دوسرے صاحب نے اُن کی تصدیق کی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15617
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2689)»
حدیث نمبر: 15618
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ : أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَمُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُونَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَمَّارٍ : " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : لَا تَزَالُ دَاحِضًا فِي بَوْلِكَ ، نَحْنُ قَتَلْنَاهُ ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ مَنْ جَاءَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ أَسَانِيدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن حارث بن نوفل بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا تھا : ” ایک باغی گروہ ، تمہیں قتل کرے گا ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ہمیشہ اپنے پیشاب میں گیلے ہوتے رہو گے ( یعنی تمہارا بچپنا کب ختم ہو گا ) کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ اُن کو اُس نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں ( میدان جنگ میں ) لے کر آیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی اسانید میں سے ایک کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15618
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (331/19)»
حدیث نمبر: 15619
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْتَصِمَانِ فِي دَمِ عَمَّارٍ وَسَلَبِهِ ، فَقَالَ عَمْرٌو : خَلِّيَا عَنْهُ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَاتِلُ عَمَّارٍ وَسَالِبُهُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَدْ صَرَّحَ لَيْثٌ بِالتَّحْدِيثِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو افراد ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ دونوں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قتل اور اُن کے سامان کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے چھوڑ دو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عمار کو قتل کرنے والا ، اور اُس کا سامان لینے والا جہنم میں جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس میں لیث نامی راوی نے تحدیث کی صراحت کی ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15619
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15620
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَاتِلُ عَمَّارٍ وَسَالِبُهُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمِلَائِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عمار کو قتل کرنے والا اور اُس کا سامان لینے والا جہنم میں جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15620
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15621
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ حِينَ كَانَ يَبْنِي الْمَسْجِدَ لِعَمَّارٍ : " إِنَّكَ حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ ، وَإِنَّكَ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَلَتَقْتُلَنَّكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . قَالَ : بَلَى قَالَ : فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا تَزَالُ تَدْحَضُ فِي بَوْلِكَ ، نَحْنُ قَتَلْنَاهُ ؟ إِنَّمَا قَتْلَهُ الَّذِي جَاءَ بِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: امیر المؤمنین ! کیا آپ نے
یہ روایت نہیں سنی ہے ؟ کہ مسجد کی تعمیر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا : ” تم جہاد کرنے کے حریص ہو اور تم اہل جنت میں سے ایک ہو اور ایک باغی گروہ تمہیں قتل کرے گا ۔ “ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : پھر آپ لوگوں نے انہیں کیوں قتل کیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! تم مسلسل اپنے پیشاب میں گیلے ہوتے رہو گے ( یعنی تمہارا بچپنا کب ختم ہو گا ) ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہیں اس نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں ( میدان جنگ میں ) لے کر آیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15621
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7351) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (330/19)»
حدیث نمبر: 15622
وَعَنْ هَنِيٍّ - مَوْلَى عَمْرٍو - قَالَ : كُنْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِصِفِّينَ ، فَنَظَرْتُ يَوْمَئِذٍ فِي الْقَتْلَى فَإِذَا أَنَا بِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَقْتُولًا ، فَذَهَبْنَا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقُلْتُ : مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَمَّارٍ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَمَّارٍ : " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . فَقُلْتُ : هَذَا عَمَّارٌ قَدْ قَتَلْتُمُوهُ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيَّ ، وَقَالَ : انْطَلِقْ فَأَرِنِيهِ ، فَذَهَبْتُ فَوَقَفْتُ عَلَيْهِ ، وَقُلْتُ لَهُ : مَاذَا تَقُولُ فِيهِ ؟ قَالَ : إِنَّمَا قَتَلَهُ أَصْحَابُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُطَوَّلًا ، وَرَوَاهُ مُخْتَصَرًا ، وَرِجَالُ الْمُخْتَصَرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زِيَادٍ مَوْلَى عَمْرٍو وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ہنی بیان کرتے ہیں : ” میں ” صفین “ میں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، اس دن میں نے مقتولین کا جائزہ لیا ، تو میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مقتول پایا ، ہم لوگ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، میں نے کہا: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمار سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو تو آپ لوگوں نے قتل کر دیا ہے ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ، انہوں نے کہا: تم چلو اور مجھے دکھاؤ ! میں گیا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، میں نے دریافت کیا : ان کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ان کے ساتھیوں نے انہیں قتل کروایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے اس کو مختصر روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، مختصر روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے غلام زیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15622
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 15623
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، وَمَيْسَرَةَ : أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَوْمَ صِفِّينَ كَانَ يُقَاتِلُ فَلَا يَقْتُلُ ، فَيَجِيءُ إِلَى عَلِيٍّ فَيَقُولُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، يَوْمُ كَذَا وَكَذَا هَذَا ، فَيَقُولُ : أَذْهِبْ عَنْكَ . قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ هَذِهِ آخِرَ شَرْبَةٍ أَشْرَبُهَا مِنَ الدُّنْيَا ، ثُمَّ قَامَ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ ، وَفِي بَعْضِهَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدْ تَغَيَّرَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَبَقِيَّةُ الْأَسَانِيدِ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوبختری اور میسرہ بیان کرتے ہیں : جنگ ” صفین “ کے دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ لڑائی میں حصہ لیتے رہے ، لیکن وہ شہید نہیں ہوئے ، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : اے امیرالمؤمنین ! کیا یہ فلاں فلاں دن نہیں ہے ؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنے سے لے جاؤ ! راوی کہتے ہیں : ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر دودھ لایا گیا ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اسے پیا ، پھر انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : یہ پینے کی وہ آخری چیز ہو گی ، جو میں دنیا میں پیوں گا ، پھر وہ اُٹھے انہوں نے لڑائی میں حصہ لیا اور شہید ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی بعض اسناد میں ایک راوی عطا بن سائب ہے ، جو تغیر کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کی بقیہ اسانید ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15623
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1626 و 1613) اخرجه احمد فى المسند (319/4)»
حدیث نمبر: 15624
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ يَقُولُ ] وَضَرَبَ جَنْبَ عَمَّارٍ قَالَ : " إِنَّكَ لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَقْتُلَكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ النَّاكِبَةُ عَنِ الْحَقِّ ، يَكُونُ آخِرُ زَادِكَ مِنَ الدُّنْيَا شَرْبَةَ لَبَنٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پہلو پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا : ” تم اُس وقت تک نہیں مرو گے ، جب تک تمہیں ایک باغی گروہ قتل نہیں کرے گا ، جو حق سے عدول کرنے والا ہو گا ، اور دنیا میں تمہاری آخری استعمال کی چیز دودھ کا گھونٹ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15624
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15625
وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَعَا غُلَامًا لَهُ بِشَرَابٍ ، فَأَتَاهُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَشَرِبَهُ ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، الْيَوْمَ أَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ آخِرَ شَيْءٍ أَزُودُهُ مِنَ الدُّنْيَا ضَيْحَةُ لَبَنٍ . ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَوْ هَزَمُونَا حَتَّى يَبْلُغُوا سَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَلِمْنَا أَنَّا عَلَى حَقٍّ وَأَنَّهُمْ عَلَى بَاطِلٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابوسنان دؤلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، انہوں نے اپنے غلام سے مشروب منگوایا ، تو وہ غلام اُن کے پاس دودھ کا پیالہ لے کر آیا ، انہوں نے اس دودھ کو پیا اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا: ہے ، آج میں اپنی محبوب ہستیوں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے مل جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : میں دنیا میں جو آخری چیز استعمال کروں گا ، وہ دودھ ہو گا ، پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ لوگ ہمیں پسپا کر دیں ، یہاں تک کہ وہ ہمیں ” سعفات ہجر “ تک پہنچا دیں ، تو بھی ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15625
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15626
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فِي خَاصِرَتِي ، فَقَالَ : " خَاصِرَةٌ مُؤْمِنَةٌ ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، آخِرُ زَادِكَ ضَيَاحٌ مِنْ لَبَنٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پہلو پر اپنا ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا : ” یہ مومن پہلو ہے ، ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا ، اور تمہاری آخری استعمال کی چیز دودھ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15626
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15627
وَعَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ : كُنْتُ بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ الْقُرَشِيِّ ، فِي مَنْزِلِ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ قَاتِلَ عَمَّارٍ بِالْبَابِ أَفَتَأْذُنُونَ لَهُ فَيَدْخُلَ ؟ فَكَرِهَ بَعْضُ [ الْقَوْمِ ] ، وَقَالَ بَعْضٌ : أَدْخِلُوهُ ، [ فَدَخَلَ ] ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ لَهُ فَقَالَ : لَقَدْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَنْفَعُ أَهْلِي فَأَرُدُّ عَلَيْهِمُ الْغَنَمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَبَا الْغَادِيَةِ ، كَيْفَ كَانَ أَمْرُ عَمَّارٍ ؟ قَالَ : كُنَّا نَعُدُّ عَمَّارًا مِنْ خِيَارِنَا حَتَّى سَمِعْتُهُ يَوْمًا فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ يَقَعُ فِي عُثْمَانَ ، فَلَوْ خَلُصْتُ إِلَيْهِ لَوَطِئْتُهُ بِرِجْلِي ، فَمَا صَلَّيْتُ بَعْدَ ذَلِكَ صَلَاةً إِلَّا قُلْتُ : اللَّهُمَّ لَقِّنِي عَمَّارًا ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ صِفِّينَ اسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ يَسُوقُ الْكَتِيبَةَ ، فَاخْتَلَفْتُ أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ ، فَبَدَرْتُهُ فَضَرَبْتُهُ فَكَبَا لِوَجْهِهِ ، ثُمَّ قَتَلْتُهُ . . ¤
محمد محی الدین
کلثوم بن جبر بیان کرتے ہیں : میں ” واسط القصب “ میں عنبسہ بن سعید کے گھر میں عبدالاعلیٰ بن عبداللہ کے پاس موجود تھا اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا: دروازے پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا قاتل موجود ہے ، کیا تم لوگ اسے یہ اجازت دیتے ہو کہ وہ اندر آ جائے ؟ بعض لوگوں نے اس چیز کو ناپسند کیا اور بعض نے یہ کہا: اسے اندر آنے دو ! وہ اندر آیا ، وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس کے جسم پر کپڑوں کے ٹکڑے تھے ، اس نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ، میں اس وقت اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: اے ابوالغادیہ ! سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا معاملہ کیسا تھا ؟ اس نے جواب دیا : ہم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو اپنے بہترین افراد میں سے ایک شمار کرتے تھے ، یہاں تک کہ ایک دن میں نے انہیں مسجد قباء میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہوئے سنا ، اگر میرے بس میں ہوتا ، تو میں انہیں اپنے اس پاؤں کے ذریعے روند دیتا ، اس کے بعد میں ہر نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتا تھا : اے اللہ ! عمار سے میرا سامنا کروا دینا ، یہاں تک کہ جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو ایک شخص میرے سامنے آیا ، جو ایک فوجی دستے کی کمان کر رہا تھا ، ہم دونوں نے ایک دوسرے پر دو ضربیں لگائیں ، پھر میں نے لپک کر اس پر وار کیا اور اسے قتل کر دیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (363/22)»
حدیث نمبر: 15628
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : أَدْخِلُوهُ ، فَأُدْخِلَ عَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ لَهُ ، فَإِذَا رَجُلٌ طِوَالٌ ، ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ ، كَأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ حَتَّى قَالَ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ أَقْبَلَ يَمْشِي أَوَّلَ الْكَتِيبَةِ رَاجِلًا حَتَّى كَانَ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ طَعَنَ رَجُلًا فِي رُكْبَتِهِ بِالرُّمْحِ فَصَرَعَهُ ، فَانْكَفَأَ الْمِغْفَرُ عَنْهُ ، فَاضْرِبْهُ فَإِذَا رَأَسُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ . ¤ قَالَ : يَقُولُ لَهُ مَوْلًى لَنَا : أَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا أَبْيَنَ ضَلَالَةً مِنْهُ . رَوَاهُ [ كُلَّهُ ] الطَّبَرَانِيُّ ، [ وَعَبْدُ اللَّهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ] رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْفِتَنِ أَحَادِيثُ ، وَبَعْضُ مَا كَانَ بَيْنَهُمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : عبدالاعلیٰ نے کہا: تم لوگ اسے اندر آنے دو ، اُسے اندر لایا گیا ، تو اس کے جسم پر کپڑوں کے ٹکڑے تھے ، وہ ایک طویل القامت شخص تھا ، اس کی جسامت ایسی تھی کہ وہ اس اُمت سے تعلق نہیں رکھتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو وہ جنگی دستے کے آگے چلتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ انہوں نے دونوں فوجوں کے درمیان میں ، ایک شخص کے گھٹنے پر نیزہ مار کر اسے پچھاڑ دیا ، اُن کا خود ہٹ گیا ، تو اُس وقت میں نے اُن پر ضرب لگائی ، وہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا سر تھا ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہمارے غلام نے ( یا ہمارے آقا نے ) اُس سے کہا: اس کے دونوں ہاتھوں میں سے کون سا ، اس کو ساتھ ملائے گا ، میں نے اس سے زیادہ گمراہ شخص کوئی نہیں دیکھا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، اور عبداللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس سے پہلے ” کتاب الفتن “ میں کچھ روایات گزر چکی ہیں ، جن میں صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کا ذکر ہوا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15628
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح