مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - باب: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والوں کے فضائل کا بیان
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَخْوَفَ عِنْدِي عَلَى أَنْ يُدْخِلَنِي النَّارَ مِنْ شَأْنِ عَمَّارٍ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا سُلَيْمَانَ وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَأَصَبْتُهُمْ وَفِيهِمْ أَهْلُ بَيْتِ مُسْلِمِينَ ، فَكَلَّمَنِي عَمَّارٌ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَرْسِلْهُمْ ، فَقُلْتُ : لَا حَتَّى آتِيَ بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنْ شَاءَ أَرْسَلَهُمْ ، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهِمْ مَا أَرَادَ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ فَدَخَلَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى خَالِدٍ فَعَلَ وَفَعَلَ ، فَقَالَ خَالِدٌ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا مَجْلِسُكَ مَا سَبَّنِي ابْنُ سُمَيَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْرُجْ يَا عَمَّارُ " . فَخَرَجَ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالَ : مَا نَصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَالِدٍ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَجَبْتَ الرَّجُلَ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مَنَعَنِي مِنْهُ إِلَّا مَحْقَرَتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَحْقِرْ عَمَّارًا يَحْقِرْهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسُبَّ عَمَّارًا يَسُبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَنْتَقِصْ عَمَّارًا يَنْتَقِصْهُ اللَّهُ " . فَخَرَجْتُ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى اسْتَغْفَرَ لِي . وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ يُعَادِ عَمَّارًا يُعَادِهِ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُطَوَّلًا وَمُخْتَصَرًا بِأَسَانِيدَ ، مِنْهَا مَا وَافَقَ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَمِنْهَا مَا هُوَ مُرْسَلٌ . ¤سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا ، جس کے بارے میں مجھے یہ اندیشہ ہو کہ وہ عمل مجھے جہنم میں داخل کروا دے گا ، البتہ اس معاملے کا حکم مختلف ہے ، جو عمار کے حوالے سے پیش آیا ، ہم نے دریافت کیا ہے : اے ابوسلیمان ! وہ کیا معاملہ ہے ؟ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ہمراہ مجھے عربوں کے ایک قبیلے کی طرف بھیجا ، میں نے ان لوگوں پر حملہ کیا ، اس قبیلے میں مسلمانوں کے کچھ گھرانے بھی تھے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ ان افراد کے بارے میں بات چیت کی اور یہ کہا: آپ انہیں چھوڑ دیں ، میں نے کہا: ایسا اُس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک میں انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں لے جاتا ، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں گے تو انھیں چھوڑ دیں گے ، اور اگر چاہیں گے تو جو سلوک چاہیں گے ، ان کے ساتھ کریں گے ۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی ، پھر وہ اندر آ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا ؟ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے یہ کام کیا ہے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر آپ کی محفل نہ ہوتی ، تو سمیہ کا بیٹا ( یعنی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ) مجھے برا نہیں کہہ سکتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمار ! تم باہر چلے جاؤ ، تو وہ روتے ہوئے باہر گئے ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے خلاف میری مدد نہیں کی ( سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : تم نے اُسے جواب کیوں نہیں دیا ؟ میں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میں نے ایسا اس لئے نہیں کیا کیونکہ وہ فقیر آدمی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عمار کو حقیر سمجھے ، اللہ تعالیٰ اسے حقیر سمجھے ، جو شخص عمار کو برا کہے ، اللہ تعالیٰ اُسے برا کہے ، جو شخص عمار کی تنقیص کرے ، اللہ تعالیٰ اُس کی تنقیص کرے ۔ “ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں باہر آ کر سیدنا عمار کے پیچھے گیا ، یہاں تک کہ انہوں نے میرے لیے دعائے مغفرت کی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص عمار سے دشمنی رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے دشمنی رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ طویل اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں کچھ امام أحمد کی سند کے موافق ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور ان میں سے کچھ روایات ” مرسل “ ہیں ۔