حدیث نمبر: 15593
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مُضْطَجِعًا فِي حِجْرِ عَمَّارٍ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ : مَاذَا يَقُولُ الْمُشْرِكُونَ آنِفًا لِهَذَا - يَعْنِي عَمَّارًا - ؟ قَالَ : فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ ، وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِهِ حَتَّى أَحَاطَ بِظَهْرِهِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُمْ لَيَحْرُزُونَ أَدِيمًا طَيِّبًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَضُعِّفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک شخص اندر آیا اور اس نے دریافت کیا : اب مشرکین اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ اس کی مراد سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پیچھے کی طرف لے جا کر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی پشت پر رکھ کر ، انہیں اپنے بازو کے گھیرے میں لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر اس وقت ان کی گود میں تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان لوگوں نے پاکیزہ چمڑے کو سرخ رنگ ( یعنی خون ) میں رنگ دینا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے ، ویسے اُس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15593
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن