حدیث نمبر: 15595
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارٍ كَلَامٌ ، فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ ، فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : فَجَعَلَ يَغْلُظُ لَهُ ، وَلَا يَزِيدُهُ إِلَّا غِلْظَةً ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِتٌ ، فَبَكَى عَمَّارٌ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَرَاهُ ؟ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فَقَالَ : " مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ " . ¤ قَالَ خَالِدٌ : فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَا عَمَّارٍ ، فَلَقِيتُهُ فَرْضِيَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میرے اور عمار کے درمیان کسی بات پر تکرار ہو گئی ، میں نے اُن کے خلاف سختی سے بات کی ، تو عمار میری شکایت کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا ، اسی دوران سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ، وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شکایت کرنا چاہتے تھے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : انہوں نے عمار کے ساتھ زیادہ سختی سے بات کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران خاموش رہے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ رونے لگے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور ارشاد فرمایا : ” جو شخص عمار سے عداوت رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے عداوت رکھے اور جو شخص عمار سے بغض رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے بغض رکھے ۔ “ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں وہاں سے نکلا ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی رضامندی سے زیادہ میرے نزدیک اور کوئی چیز محبوب نہیں تھی ، میں اُن سے ملا اور وہ راضی ہو گئے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15595
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (89/4)»