مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - باب: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والوں کے فضائل کا بیان
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أُتِيَ حُذَيْفَةُ فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، قُتِلَ هَذَا الرَّجُلُ وَقَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيمَا يَقُولُ ؟ قَالَ : أَسْنِدُونِي ، فَأَسْنَدُوهُ إِلَى صَدْرِ رَجُلٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَبُو الْيَقْظَانِ عَلَى الْفِطْرَةِ ، لَا يَدَعُهَا حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَمَسَّهُ الْهَرَمُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤بلال بن یحیی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ، تو ایک شخص سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: اے ابوعبداللہ ! ان صاحب کو قتل کر دیا گیا ہے ، لوگوں میں اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے ٹیک دو ! پھر ایک شخص نے سینے کے ذریعے انہیں ٹیک دی ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ابوالیقظان فطرت پر ہے ، وہ مرتے دم تک فطرت کو نہیں چھوڑے گا ، البتہ اگر اسے بڑھاپا لاحق ہو گیا ، تو معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔