حدیث نمبر: 15589
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ : دَعَا عُثْمَانُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكُمْ ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي ، نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ ، وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ أُعْطِيَتْهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ . ¤ فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ - يَعْنِي عَمَّارًا - ؟ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى بِالْبَطْحَاءِ ، حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ ، فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الدَّهْرُ هَكَذَا ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اصْبِرْ " . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ ، وَقَدْ فَعَلْتَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سالم بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ حضرات کو بلایا ، جن میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ لوگوں سے کچھ پوچھنے لگا ہوں اور میری یہ خواہش ہے کہ آپ لوگ میری تصدیق کریں ، میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو دیگر تمام لوگوں پر ترجیح دیتے تھے ؟ اور بنو ہاشم کو دیگر تمام قریش پر ترجیح دیتے تھے ؟ تو تمام حاضرین خاموش ہو گئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر میرے ہاتھ میں جنت کی کنجیاں ہوتیں ، تو میں نے وہ بنوامیہ کو دیدینی تھیں ، یہاں تک کہ اُن کا ہر ایک فرد جنت میں داخل ہو جاتا ، پھر انہوں نے سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیج کر بلوایا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس کے بارے میں بتاؤں ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مراد سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تھے ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ہم بطحاء میں چلتے ہوئے جا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر عمار کے والد اور والدہ کے پاس سے ہوا ، جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا ، عمار کے والد نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : تم صبر سے کام لو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! تو آل یاسر کی مغفرت کر دے ، ویسے تو ایسا کر چکا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15589
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح