کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائے ( ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ) کیا اس سے توبہ کروائی جائے گی اور اس سے کتنی مرتبہ توبہ کروائی جائے گی ؟
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَبْغَضَ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمَنْ آمَنَ ثُمَّ كَفَرَ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے ، جو ایمان لائے اور پھر کافر ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ۔ جسے ابوحاتم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ۔ جسے ابوحاتم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ( اسلام کو چھوڑ کر ) اپنا دین تبدیل کر لے اسے قتل کر دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ( اسلام کو چھوڑ کر ) اپنا دین تبدیل کر لے اسے قتل کر دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ( اسلام کو چھوڑ کر ) اپنے دین کو تبدیل کر لے اسے قتل کر دو اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی توبہ قبول نہیں کرے گا ، جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ( اسلام کو چھوڑ کر ) اپنے دین کو تبدیل کر لے اسے قتل کر دو اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی توبہ قبول نہیں کرے گا ، جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ تَوْبَةَ عَبْدٍ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص اپنا دین اسلام بدل ڈالے مرتد ہو جائے تو اسے قتل کر دو ، اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کی توبہ اس دنیا میں شرعی سزا ساقط کرنے کے لیے یا کفر پر قائم رہتے ہوئے قبول نہیں فرماتا جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے“ ۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ( اسلام کو چھوڑ کر ) اپنا دین تبدیل کر لے اسے قتل کر دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " إِنَّ هَذِهِ الْقَرْيَةَ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - لَا يَصْلُحُ فِيهَا قِبْلَتَانِ فَأَيُّمَا نَصْرَانِيٌّ أَسْلَمَ ثُمَّ تَنَصَّرَ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : ” بے شک اس بستی میں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ منورہ تھا ) دو قبلے ہونا مناسب نہیں ہیں ، تو جو بھی عیسائی مسلمان ہو ، اور پھر وہ دوبارہ عیسائیت اختیار کر لے ، تو تم اس کی گردن اڑا دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُمَا إِلَى الْيَمَنِ ، وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ . قَالَ : فَجَاءَ مُعَاذٌ إِلَى أَبِي مُوسَى يَزُورُهُ فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ مُوَثَّقٌ بِالْحَدِيدِ ، فَقَالَ : يَا أَخِي ، أَوَبُعِثْنَا نُعَذِّبُ النَّاسَ ، إِنَّمَا بُعِثْنَا نُعَلِّمُهُمْ دِينَهُمْ ، وَنَأْمُرُهُمْ بِمَا يَنْفَعُهُمْ ، فَقَالَ : إِنَّهُ أَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ . ¤ فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَحْرِقَهُ بِالنَّارِ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : إِنَّ لَنَا عِنْدَهُ بَقِيَّةً ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَبْرَحُ أَبَدًا ، قَالَ : فَأُتِيَ بِحَطَبٍ فَأَلْهَبَ فِيهِ النَّارَ وَكَتَّفَهُ وَطَرَحَهُ . ¤ قُلْتُ : لَهُمَا فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو یمن بھیجا اور ان دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیں راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے آئے ، تو ان کے پاس ایک شخص کو لوہے کی زنجیر میں بندھا ہوا پایا ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھائی ! کیا ہمیں اس لئے بھیجا گیا ہے کہ ہم لوگوں کو عذاب دیں ہمیں تو اس لئے بھیجا گیا ہے ، تاکہ ہم لوگوں کو دین کی تعلیم دیں ، اور انہیں اس چیز کے بارے میں حکم دیں جو چیز انہیں فائدہ دیتی ہے ، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ شخص پہلے مسلمان ہوا تھا ، اور پھر کافر ہو گیا ہے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ۔ میں اس وقت تک نہیں ہلوں گا ، جب تک میں اسے آگ میں نہیں جلا دیتا ۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارا اس کے پاس بقیہ ہے ؟ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا راوی بیان کرتے ہیں : تو پھر لکڑیاں لائی گئیں ، اور ان میں آگ لگائی گئی ۔ انہوں نے اس کا کندھا پکڑا اور اسے آگ میں ڈال دیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان دونوں کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان دونوں کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ فَسَمِعْتُهُمْ يَقْرَؤُونَ شَيْئًا لَمْ يُنَزِّلْهُ اللَّهُ : الطَّاحِنَاتُ طَحْنًا ، الْخَابِزَاتُ خَبْزًا ، وَالْعَاجِنَاتُ عَجْنًا ، اللَّاقِمَاتُ لَقْمًا . قَالَ : فَقَدَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ ابْنَ النَّوَّاحَةِ إِمَامَهُمْ ، فَقَتَلَهُ وَاسْتَكْثَرَ الْبَقِيَّةَ ، فَقَالَ : لَا أَجْزَرَهُمُ الْيَوْمَ الشَّيْطَانُ ، سَيِّرُوهُمْ إِلَى الشَّامِ حَتَّى يَرْزُقَهُمُ اللَّهُ تَوْبَةً أَوْ يُفْنِيَهُمُ الطَّاعُونُ . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں بنو حنیفہ کی مساجد میں سے ایک مسجد کے پاس سے گزرا ، تو میں نے انہیں ایسی چیز کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ، جو اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کی یا وہ لوگ وہ چیز قرآن کے طور پر پڑھ رہے تھے ) ۔ ” آٹا پیسنے والیاں اور روٹی پکانے والیاں اور آٹا گوندھنے والیاں اور لقمے بنانے والیاں“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے امام ابن نواحہ کے پاس آئے ، اور انہوں نے اسے قتل کر دیا باقی لوگ کیونکہ زیادہ تھے ، تو انہوں نے فرمایا : آج میں ان لوگوں کو شیطان کے حوالے نہیں کروں گا ، تم ان کو شام کی طرف بھیج دو ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں ، توبہ نصیب کر دے گا یا طاعون انہیں فنا کر دے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنْ هَاهُنَا أُنَاسًا يَقْرَؤُونَ قِرَاءَةَ مُسَيْلِمَةَ ، فَرَدَّهُ عَبْدُ اللَّهِ ، فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لَقَدْ تَرَكْتُهُمُ الْآنَ فِي دَارٍ ، وَإِنَّ ذَلِكَ الْمُصْحَفَ لَعِنْدَهُمْ . ¤ فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَسَارَ بِالنَّاسِ مَعَهُ ، فَقَالَ : ائْتِ بِهِمْ . فَلَمَّا أَتَى بِهِمْ ، قَالَ : مَا هَذَا ؟ بَعْدَمَا اسْتَفَاضَ الْإِسْلَامُ ؟ فَقَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَنَتُوبُ إِلَيْهِ ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ هُوَ الْكَذَّابُ الْمُفْتَرِي عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قَالَ : فَاسْتَتَابَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ ، وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّامِ ، وَإِنَّهُمْ لَقَرِيبٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا . ¤ وَأَبَى ابْنُ النَّوَّاحَةِ أَنْ يَتُوبَ ، فَأَمَرَ بِهِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ فَأَخْرَجَهُ إِلَى السُّوقِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ ، وَأَمَرَ أَنْ يَأْخُذَ رَأْسَهُ فَيُلْقِيَهُ فِي حِجْرِ أُمِّهِ . ¤ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : فَلَقِيتُ شَيْخًا مِنْهُمْ كَبِيرًا بَعْدَ ذَلِكَ بِالشَّامِ ، فَقَالَ لِي : رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ ، وَاللَّهِ لَوْ قَتَلَنَا يَوْمَئِذٍ لَدَخَلْنَا النَّارَ كُلُّنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ بَيْنَ الْقَاسِمِ وَجَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا ، اور انہیں یہ بتایا : اے ابوعبدالرحمن ! یہاں کچھ لوگ ہیں جو مسیلمہ کی قرأت کی تلاوت کرتے ہیں ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو واپس بھیج دیا ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ گزرنے کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے ، تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! اس ذات کی قسم ! جس کے نام پر میں حلف اٹھا رہا ہوں ۔ میں ان لوگوں کو ابھی ایک گھر میں چھوڑ کے آیا ہوں ، اور وہ مصحف ان لوگوں کے پاس موجود ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا ، وہ لوگوں کو ساتھ لے کر ان کے ساتھ روانہ ہوا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ان کے پاس پہنچو ! جب وہ ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ کیا اسلام کے پھیل جانے کے بعد ایسا ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! ہم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ، اور ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب ہے ، اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے توبہ کروائی اور انہیں شام بھجوا دیا ۔ وہ تقریباً اسی کے قریب افراد تھے ۔ ابن نواحہ نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا وہ اسے لے کر بازار آئے ، اور انہوں نے اس کی گردن اڑا دی پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا سر پکڑ کر اس کی ماں کی گود میں ڈال دیا جائے ۔ عبدالرحمن بن عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : بعد میں شام میں ان میں سے ایک بوڑھے شخص سے میری ملاقات ہوئی ، تو اس نے مجھ سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ۔ اللہ کی قسم ! اگر وہ اس دن ہمیں قتل کروا دیتے ، تو ہم سب نے جہنم میں داخل ہو جانا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے قاسم اور ان کے دادا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے قاسم اور ان کے دادا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اس کی سند منقطع ہے ۔
وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ أَنَّ عَلِيًّا بَلَغَهُ أَنَّ قَوْمًا بِالْبَصْرَةِ ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَأَمَالَ عَلَيْهِمُ الطَّعَامَ جُمْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَبَوْا ، فَحَفَرَ عَلَيْهِمْ حَفِيرَةً ثُمَّ قَامَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : لَأَمْلَأَنَّكِ شَحْمًا وَلَحْمًا ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِمْ فَضَرَبَ أَعْنَاقَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ فِي الْحَفِيرَةِ ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمُ الْحَطَبَ فَأَحْرَقَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ قَالَ سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ : فَلَمَّا انْصَرَفَ اتَّبَعْتُهُ ، فَقُلْتُ : سَمِعْتُكَ تَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ إِنَّ حَوْلِي قَوْمًا جُهَّالًا ، وَلَكِنِّي إِذَا سَمِعْتَنِي أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَمْ يَقُلْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ اللُّؤْلُؤِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ بصرہ میں کچھ لوگ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف پیغام بھیجا وہ دو ہفتوں تک انہیں اناج بھیجتے رہے پھر انہوں نے ان لوگوں کی طرف اسلام کی دعوت دی انہوں نے وہ نہیں مانی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے لئے گڑھا کھدایا اور پھر ان کے سرہانے کھڑے ہوئے اور فرمایا میں تمہیں چربی اور گوشت سے بھر دوں گا پھر ان لوگوں کو لایا گیا اور ان کی گردنیں اڑائیں اور انہں گڑھے میں ڈال دیا گیا پھر ان پر لکڑیاں ڈال دی گئیں اور انہیں جلا دیا گیا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ۔ سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں جب وہ واپس مڑے تو میں ان کے پیچھے گیا میں نے کہا: میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے تو انہوں نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو میرے اردگرد جاہل لوگ موجود تھے جب تم نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا ہے تو میں آسمان سے گر جاؤں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کوئی ایسی بات منصوب کروں جو آپ نے ارشاد نہ فرمائی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن زیاد لؤلؤی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن زیاد لؤلؤی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ارْتَدَّ نَبْهَانُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَمْكِنِّي مِنْ نَبْهَانَ فِي عُنُقِهِ حَبْلٌ أَسْوَدُ " . ¤ فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِنَبْهَانَ قَدْ أُخِذَ ، فَجُعِلَ فِي عُنُقِهِ حَبْلٌ أَسْوَدُ ، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّيْفَ بِيَمِينِهِ ، وَالْحَبْلَ بِشِمَالِهِ لِيَقْتُلَهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمَطْتَ عَنْكَ ؟ قَالَ : فَدْفَعَ السَّيْفَ إِلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ " . ¤ فَانْطَلَقَ بِهِ ، فَضَحِكَ نَبْهَانُ ، فَقَالَ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَخَلَّى عَنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمَرْزُبَانِ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ لَمْ أَرَهُ فِي الْمِيزَانِ وَلَا غَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبہان نامی شخص تین مرتبہ مرتد ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ تو مجھے نبہان پر اس طرح ق ابودے کہ اس کا گردن میں سیاہ رسی ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ کی تو سامنے سے نبہان آ رہا تھا اسے پکڑا گیا تھا اور اس کے گلے میں سیاہ رسی ڈالی گئی تھی لوگ اسے لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک میں تلوار پکڑی اور بائیں ہاتھ رسی پکڑی تاکہ اسے قتل کر دیں انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے خود سے دور کر دیں تو یہ مناسب ہو گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار اس شخص کو پکڑا دی اور فرمایا تم جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو وہ اسے لے کے جانے لگا تو نبہان ہنسنے لگا اس نے کہا: کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں تو اسے چھوڑ دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن مرزبان کا معاملہ مختلف ہے میزان الاعتدال یا اس کے علاوہ کسی اور کتاب میں ان کا ذکر نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن مرزبان کا معاملہ مختلف ہے میزان الاعتدال یا اس کے علاوہ کسی اور کتاب میں ان کا ذکر نہیں دیکھا ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَتَابَ رَجُلًا ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص سے چار مرتبہ توبہ کروائی تھی جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلی بن ہلال ہے جس کے جھوٹ کے حوالے سے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلی بن ہلال ہے جس کے جھوٹ کے حوالے سے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ خَالَفَ دِينُهُ ، دِينَ الْإِسْلَامِ ، فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " . ¤ وَقَالَ : " إِنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ; فَلَا سَبِيلَ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ شَيْئًا فَيُقَامَ عَلَيْهِ حَدُّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ” جو شخص اپنے دین یعنی اسلام کو چھوڑ دے اس کی گردن اڑا دو اور آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں تو پھر اسے کچھ نہیں کہا: جا سکتا البتہ اگر وہ کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کو اس کی سزا دی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرنی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ابان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرنی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ابان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ حِينَ أَرْسَلَهُ إِلَى الْيَمَنِ : " أَيُّمَا رَجُلٍ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ فَادْعُهُ ، فَإِنْ تَابَ فَاقْبَلْ مِنْهُ ، وَإِنْ لَمْ يَتُبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ . وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ ارْتَدَّتْ عَنِ الْإِسْلَامِ فَادْعُهَا ، فَإِنْ تَابَتْ فَاقْبَلْ مِنْهَا ، وَإِنْ أَبَتْ فَاسْتَتِبْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، قَالَ مَكْحُولٌ : عَنِ ابْنٍ لِأَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب انہیں یمن بھیجنے لگے تو آپ نے ان سے فرمایا : ” جو شخص اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو جائے تم اسے دعوت دو اگر وہ توبہ قبول کر لے تو اس سے توبہ کو قبول کر لو اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو اس کی گردن اڑا دو اور جو عورت اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو جائے تم اسے دعوت دو اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کر لو اور اگر وہ نہیں مانتی تو اس سے توبہ کرواتے رہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے مکحول نے یہ کہا: یہ ابوطلحہ یعمری کے بیٹے کے حوالے سے منقول ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے مکحول نے یہ کہا: یہ ابوطلحہ یعمری کے بیٹے کے حوالے سے منقول ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ : مَا لِمَنِ افْتَتَنَ تَوْبَةٌ إِذَا تَرَكَ دِينَهُ بَعْدَ إِسْلَامِهِ وَمَعْرِفَتِهِ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ : يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْهِجْرَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ہم یہ بات کہا: کرتے تھے اس شخص کو کیا ملے گا جو توبہ کی آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے جبکہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد اور اس کی معرفت کے بعد اپنے دین کو ترک کر چکا ہو تو ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تم لوگ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس سے پہلے یہ حدیث ہجرت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔