حدیث نمبر: 10580
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ارْتَدَّ نَبْهَانُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَمْكِنِّي مِنْ نَبْهَانَ فِي عُنُقِهِ حَبْلٌ أَسْوَدُ " . ¤ فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِنَبْهَانَ قَدْ أُخِذَ ، فَجُعِلَ فِي عُنُقِهِ حَبْلٌ أَسْوَدُ ، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّيْفَ بِيَمِينِهِ ، وَالْحَبْلَ بِشِمَالِهِ لِيَقْتُلَهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمَطْتَ عَنْكَ ؟ قَالَ : فَدْفَعَ السَّيْفَ إِلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ " . ¤ فَانْطَلَقَ بِهِ ، فَضَحِكَ نَبْهَانُ ، فَقَالَ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَخَلَّى عَنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمَرْزُبَانِ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ لَمْ أَرَهُ فِي الْمِيزَانِ وَلَا غَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبہان نامی شخص تین مرتبہ مرتد ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ تو مجھے نبہان پر اس طرح ق ابودے کہ اس کا گردن میں سیاہ رسی ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ کی تو سامنے سے نبہان آ رہا تھا اسے پکڑا گیا تھا اور اس کے گلے میں سیاہ رسی ڈالی گئی تھی لوگ اسے لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک میں تلوار پکڑی اور بائیں ہاتھ رسی پکڑی تاکہ اسے قتل کر دیں انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے خود سے دور کر دیں تو یہ مناسب ہو گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار اس شخص کو پکڑا دی اور فرمایا تم جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو وہ اسے لے کے جانے لگا تو نبہان ہنسنے لگا اس نے کہا: کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں تو اسے چھوڑ دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن مرزبان کا معاملہ مختلف ہے میزان الاعتدال یا اس کے علاوہ کسی اور کتاب میں ان کا ذکر نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10580
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف