حدیث نمبر: 10577
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ فَسَمِعْتُهُمْ يَقْرَؤُونَ شَيْئًا لَمْ يُنَزِّلْهُ اللَّهُ : الطَّاحِنَاتُ طَحْنًا ، الْخَابِزَاتُ خَبْزًا ، وَالْعَاجِنَاتُ عَجْنًا ، اللَّاقِمَاتُ لَقْمًا . قَالَ : فَقَدَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ ابْنَ النَّوَّاحَةِ إِمَامَهُمْ ، فَقَتَلَهُ وَاسْتَكْثَرَ الْبَقِيَّةَ ، فَقَالَ : لَا أَجْزَرَهُمُ الْيَوْمَ الشَّيْطَانُ ، سَيِّرُوهُمْ إِلَى الشَّامِ حَتَّى يَرْزُقَهُمُ اللَّهُ تَوْبَةً أَوْ يُفْنِيَهُمُ الطَّاعُونُ . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں بنو حنیفہ کی مساجد میں سے ایک مسجد کے پاس سے گزرا ، تو میں نے انہیں ایسی چیز کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ، جو اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کی یا وہ لوگ وہ چیز قرآن کے طور پر پڑھ رہے تھے ) ۔ ” آٹا پیسنے والیاں اور روٹی پکانے والیاں اور آٹا گوندھنے والیاں اور لقمے بنانے والیاں“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے امام ابن نواحہ کے پاس آئے ، اور انہوں نے اسے قتل کر دیا باقی لوگ کیونکہ زیادہ تھے ، تو انہوں نے فرمایا : آج میں ان لوگوں کو شیطان کے حوالے نہیں کروں گا ، تم ان کو شام کی طرف بھیج دو ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں ، توبہ نصیب کر دے گا یا طاعون انہیں فنا کر دے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10577
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8956)»