کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو کسی نبی کو یا اس کے علاوہ کسی اور کو برا کہے
حدیث نمبر: 10568
عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَبَّ الْأَنْبِيَاءَ قُتِلَ ، وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابِي جُلِدَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ رَمَاهُ النَّسَائِيُّ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص انبیاء کرام کو برا کہے اسے قتل کر دیا جائے گا اور جو شخص میرے اصحاب کو برا کہے اسے کوڑے لگائے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد عبیداللہ بن محمد عمری کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جس پر امام نسائی رحمہ اللہ نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10568
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (659)»
حدیث نمبر: 10569
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَنَّ عَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، وَقَاتَلَ مَعَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ بِالْيَمَنِ فِي الرِّدَّةِ - مَرَّ بِهِ نَصْرَانِيٌّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، يُقَالُ لَهُ : الْمَنْدَقُونُ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَذَكَرَ النَّصْرَانِيُّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَنَاوَلَهُ ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : قَدْ أَعْطَيْنَاهُمُ الْعَهْدَ . ¤ فَقَالَ عَرَفَةُ : مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ تَكُونَ الْعُهُودُ وَالْمَوَاثِيقُ عَلَى أَنْ يُؤْذُونَا فِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُخَلَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ ، فَيَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ ، وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِهِ ، وَأَنْ نُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ ، وَيُخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ إِلَّا أَنْ يَأْتُونَا فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : صَدَقْتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
کعب بن علقمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عرفہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ انہوں نے سیدنا عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر یمن میں مرتدین کے ساتھ جنگ کی تھی ایک مرتبہ مصر سے تعلق رکھنے والا ایک عیسائی ان کے پاس سے گزرا ، جس کا نام مندقون تھا ۔ انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی اس عیسائی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی یہ معاملہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ان لوگوں کو عہد دے چکے ہیں کہ تو سیدنا عرفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ یہ عہد اور میثاق اس چیز کے بارے میں ہو کہ وہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں اذیت پہنچائیں ہم نے انہیں عہد اس چیز کا دیا ہے کہ ہم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں گے وہ اپنی عبادت گاہوں میں جو مناسب سمجھیں کریں اور انہیں کسی ایسی چیز کا پابند نہیں کریں گے ، جس کی ان میں طاقت نہ ہو ، اور ہم ان کی خاطر جنگ کریں گے ، اور ان کے اور ان کے مذہبی احکام کے بارے میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے ، البتہ جب وہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے ، تو ہم ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ دیں گے ، جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ، تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10570
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ أُخْتٌ فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آذَتْهُ فِيهِ ، وَشَتَمَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ مُشْرِكَةً ، فَاشْتَمَلَ لَهَا يَوْمًا عَلَى السَّيْفِ ثُمَّ أَتَاهَا فَوَضَعَهُ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا . ¤ فَقَامَ بَنُوهَا فَصَاحُوا ، وَقَالُوا : قَدْ عَلِمْنَا مَنْ قَتَلَهَا ، أَفَتُقْتَلُ أُمُّنَا ؟ وَهَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَهُمْ آبَاءٌ وَأُمَّهَاتٌ مُشْرِكُونَ ، فَلَمَّا خَافَ عُمَيْرٌ أَنْ يَقْتُلُوا غَيْرَ قَاتِلِهَا ، ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَقَتَلْتَ أُخْتَكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " وَلِمَ ؟ " قَالَ : إِنَّهَا كَانَتْ تُؤْذِينِي فِيكَ ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَنِيهَا فَسَأَلَهُمْ فَسَمَّوْا غَيْرَ قَاتِلِهَا ، فَأَخْبَرَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِ وَأَهْدَرَ دَمَهَا قَالُوا سَمْعًا وَطَاعَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ تَابِعِيَّيْنِ أَحَدُهُمَا ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمیر بن امیہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کی ایک بہن تھی جب وہ صاحب نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے ، تو اس عورت نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اذیت پہنچانا شروع کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہنا شروع کیا کیونکہ وہ عورت مشرک تھی ایک دن انہوں نے تلوار اٹھائی پھر وہ اس عورت کے پاس آئے انہوں نے وہ تلوار اس عورت پر رکھ کر اسے قتل کر دیا اس عورت کے بچے کھڑے ہوئے ، اور چیخنے لگے انہوں نے کہا: ہمیں پتہ ہے ، جس نے اس کو قتل کیا ہے آپ نے ہماری والدہ کو قتل کرنا تھا حالانکہ یہ دوسرے لوگ بھی ہیں ، جن کے باپ اور مائیں مشرک ہیں ( ان میں سے تو کسی نے اپنے رشتے دار کو قتل نہیں کیا ) جب سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ اس عورت کے اصل قاتل کی بجائے کسی اور کو وہ لوگ قتل کر دیں گے ، تو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی بہن کو قتل کر دیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں انہوں نے عرض کی : وہ آپ کی ذات کے حوالے سے مجھے اذیت دیتی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بیٹوں کو پیغام بھیجا اور ان سے دریافت کیا : تو ان لوگوں نے اصل قاتل کی بجائے کسی اور کا نام لیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا اور اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دیا ، تو اس عورت کے بیٹوں نے کہا: ہم اس حکم کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو تابعین کے حوالے سے نقل کی ہے جن میں سے ایک ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (64/17)»