حدیث نمبر: 10576
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُمَا إِلَى الْيَمَنِ ، وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ . قَالَ : فَجَاءَ مُعَاذٌ إِلَى أَبِي مُوسَى يَزُورُهُ فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ مُوَثَّقٌ بِالْحَدِيدِ ، فَقَالَ : يَا أَخِي ، أَوَبُعِثْنَا نُعَذِّبُ النَّاسَ ، إِنَّمَا بُعِثْنَا نُعَلِّمُهُمْ دِينَهُمْ ، وَنَأْمُرُهُمْ بِمَا يَنْفَعُهُمْ ، فَقَالَ : إِنَّهُ أَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ . ¤ فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَحْرِقَهُ بِالنَّارِ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : إِنَّ لَنَا عِنْدَهُ بَقِيَّةً ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَبْرَحُ أَبَدًا ، قَالَ : فَأُتِيَ بِحَطَبٍ فَأَلْهَبَ فِيهِ النَّارَ وَكَتَّفَهُ وَطَرَحَهُ . ¤ قُلْتُ : لَهُمَا فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو یمن بھیجا اور ان دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیں راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے آئے ، تو ان کے پاس ایک شخص کو لوہے کی زنجیر میں بندھا ہوا پایا ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھائی ! کیا ہمیں اس لئے بھیجا گیا ہے کہ ہم لوگوں کو عذاب دیں ہمیں تو اس لئے بھیجا گیا ہے ، تاکہ ہم لوگوں کو دین کی تعلیم دیں ، اور انہیں اس چیز کے بارے میں حکم دیں جو چیز انہیں فائدہ دیتی ہے ، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ شخص پہلے مسلمان ہوا تھا ، اور پھر کافر ہو گیا ہے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ۔ میں اس وقت تک نہیں ہلوں گا ، جب تک میں اسے آگ میں نہیں جلا دیتا ۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارا اس کے پاس بقیہ ہے ؟ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا راوی بیان کرتے ہیں : تو پھر لکڑیاں لائی گئیں ، اور ان میں آگ لگائی گئی ۔ انہوں نے اس کا کندھا پکڑا اور اسے آگ میں ڈال دیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان دونوں کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10576
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (43/20)»