مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ - نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ - وَهَلْ يُسْتَتَابُ ؟ وَكَمْ يُسْتَتَابُ ؟ باب: اس شخص کا بیان ، جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائے ( ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ) کیا اس سے توبہ کروائی جائے گی اور اس سے کتنی مرتبہ توبہ کروائی جائے گی ؟
وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ أَنَّ عَلِيًّا بَلَغَهُ أَنَّ قَوْمًا بِالْبَصْرَةِ ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَأَمَالَ عَلَيْهِمُ الطَّعَامَ جُمْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَبَوْا ، فَحَفَرَ عَلَيْهِمْ حَفِيرَةً ثُمَّ قَامَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : لَأَمْلَأَنَّكِ شَحْمًا وَلَحْمًا ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِمْ فَضَرَبَ أَعْنَاقَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ فِي الْحَفِيرَةِ ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمُ الْحَطَبَ فَأَحْرَقَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ قَالَ سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ : فَلَمَّا انْصَرَفَ اتَّبَعْتُهُ ، فَقُلْتُ : سَمِعْتُكَ تَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ إِنَّ حَوْلِي قَوْمًا جُهَّالًا ، وَلَكِنِّي إِذَا سَمِعْتَنِي أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَمْ يَقُلْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ اللُّؤْلُؤِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ بصرہ میں کچھ لوگ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف پیغام بھیجا وہ دو ہفتوں تک انہیں اناج بھیجتے رہے پھر انہوں نے ان لوگوں کی طرف اسلام کی دعوت دی انہوں نے وہ نہیں مانی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے لئے گڑھا کھدایا اور پھر ان کے سرہانے کھڑے ہوئے اور فرمایا میں تمہیں چربی اور گوشت سے بھر دوں گا پھر ان لوگوں کو لایا گیا اور ان کی گردنیں اڑائیں اور انہں گڑھے میں ڈال دیا گیا پھر ان پر لکڑیاں ڈال دی گئیں اور انہیں جلا دیا گیا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ۔ سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں جب وہ واپس مڑے تو میں ان کے پیچھے گیا میں نے کہا: میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے تو انہوں نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو میرے اردگرد جاہل لوگ موجود تھے جب تم نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا ہے تو میں آسمان سے گر جاؤں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کوئی ایسی بات منصوب کروں جو آپ نے ارشاد نہ فرمائی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن زیاد لؤلؤی ہے اور وہ متروک ہے ۔