مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ - نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ - وَهَلْ يُسْتَتَابُ ؟ وَكَمْ يُسْتَتَابُ ؟ باب: اس شخص کا بیان ، جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائے ( ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ) کیا اس سے توبہ کروائی جائے گی اور اس سے کتنی مرتبہ توبہ کروائی جائے گی ؟
حدیث نمبر: 10575
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " إِنَّ هَذِهِ الْقَرْيَةَ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - لَا يَصْلُحُ فِيهَا قِبْلَتَانِ فَأَيُّمَا نَصْرَانِيٌّ أَسْلَمَ ثُمَّ تَنَصَّرَ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : ” بے شک اس بستی میں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ منورہ تھا ) دو قبلے ہونا مناسب نہیں ہیں ، تو جو بھی عیسائی مسلمان ہو ، اور پھر وہ دوبارہ عیسائیت اختیار کر لے ، تو تم اس کی گردن اڑا دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔