مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ - نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ - وَهَلْ يُسْتَتَابُ ؟ وَكَمْ يُسْتَتَابُ ؟ باب: اس شخص کا بیان ، جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائے ( ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ) کیا اس سے توبہ کروائی جائے گی اور اس سے کتنی مرتبہ توبہ کروائی جائے گی ؟
وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنْ هَاهُنَا أُنَاسًا يَقْرَؤُونَ قِرَاءَةَ مُسَيْلِمَةَ ، فَرَدَّهُ عَبْدُ اللَّهِ ، فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لَقَدْ تَرَكْتُهُمُ الْآنَ فِي دَارٍ ، وَإِنَّ ذَلِكَ الْمُصْحَفَ لَعِنْدَهُمْ . ¤ فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَسَارَ بِالنَّاسِ مَعَهُ ، فَقَالَ : ائْتِ بِهِمْ . فَلَمَّا أَتَى بِهِمْ ، قَالَ : مَا هَذَا ؟ بَعْدَمَا اسْتَفَاضَ الْإِسْلَامُ ؟ فَقَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَنَتُوبُ إِلَيْهِ ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ هُوَ الْكَذَّابُ الْمُفْتَرِي عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قَالَ : فَاسْتَتَابَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ ، وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّامِ ، وَإِنَّهُمْ لَقَرِيبٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا . ¤ وَأَبَى ابْنُ النَّوَّاحَةِ أَنْ يَتُوبَ ، فَأَمَرَ بِهِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ فَأَخْرَجَهُ إِلَى السُّوقِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ ، وَأَمَرَ أَنْ يَأْخُذَ رَأْسَهُ فَيُلْقِيَهُ فِي حِجْرِ أُمِّهِ . ¤ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : فَلَقِيتُ شَيْخًا مِنْهُمْ كَبِيرًا بَعْدَ ذَلِكَ بِالشَّامِ ، فَقَالَ لِي : رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ ، وَاللَّهِ لَوْ قَتَلَنَا يَوْمَئِذٍ لَدَخَلْنَا النَّارَ كُلُّنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ بَيْنَ الْقَاسِمِ وَجَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ . ¤قاسم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا ، اور انہیں یہ بتایا : اے ابوعبدالرحمن ! یہاں کچھ لوگ ہیں جو مسیلمہ کی قرأت کی تلاوت کرتے ہیں ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو واپس بھیج دیا ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ گزرنے کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے ، تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! اس ذات کی قسم ! جس کے نام پر میں حلف اٹھا رہا ہوں ۔ میں ان لوگوں کو ابھی ایک گھر میں چھوڑ کے آیا ہوں ، اور وہ مصحف ان لوگوں کے پاس موجود ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا ، وہ لوگوں کو ساتھ لے کر ان کے ساتھ روانہ ہوا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ان کے پاس پہنچو ! جب وہ ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ کیا اسلام کے پھیل جانے کے بعد ایسا ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! ہم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ، اور ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب ہے ، اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے توبہ کروائی اور انہیں شام بھجوا دیا ۔ وہ تقریباً اسی کے قریب افراد تھے ۔ ابن نواحہ نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا وہ اسے لے کر بازار آئے ، اور انہوں نے اس کی گردن اڑا دی پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا سر پکڑ کر اس کی ماں کی گود میں ڈال دیا جائے ۔ عبدالرحمن بن عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : بعد میں شام میں ان میں سے ایک بوڑھے شخص سے میری ملاقات ہوئی ، تو اس نے مجھ سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ۔ اللہ کی قسم ! اگر وہ اس دن ہمیں قتل کروا دیتے ، تو ہم سب نے جہنم میں داخل ہو جانا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے قاسم اور ان کے دادا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اس کی سند منقطع ہے ۔