کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: رجوع کرنے کا بیان
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ [ طَلْقَةً ] ، ثُمَّ ارْتَجَعَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دیدی تھی پھر آپ نے ان سے رجوع کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7749
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (176/17) اخرجه احمد فى السند (478/3)»
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَ حَفْصَةَ ، ثُمَّ ارْتَجَعَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دیدی تھی پھر آپ نے ان سے رجوع کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7750
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1501)»
وَرَوَى لَهُ أَبُو يَعْلَى : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ طَلَّقَ حَفْصَةَ أُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا . ¤ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ نے ان کے ( یعنی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ) حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دیدی ، تو آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ ان سے رجوع کر لیں ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7751
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ لَهَا : مَا يُبْكِيكِ ؟ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَكِ إِنَّهُ قَدْ كَانَ طَلَّقَكِ مَرَّةً ، ثُمَّ رَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي وَاللَّهِ لَإِنْ كَانَ طَلَّقَكِ مَرَّةً أُخْرَى لَا كَلَّمْتُكِ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ كَذَلِكَ رِجَالُ الْبَزَّارِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، تو وہ رو رہی تھیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دیدی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے بھی تمہیں ایک مرتبہ طلاق دے چکے ہیں اور میری وجہ سے آپ نے تم سے رجوع کر لیا تھا اللہ کی قسم ! اگر آپ نے دوسری مرتبہ تمہیں طلاق دیدی ، تو میں کبھی تمہارے ساتھ بات نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام بزار کے رجال کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1502) اخرجه ابو يعلي فى المسند (172) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (189/23)»
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَ حَفْصَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَوَضَعَ التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ ، وَقَالَ : مَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ بَعْدَهَا ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُرَاجِعَ حَفْصَةَ رَحْمَةً لِعُمَرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دیدی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو انہوں نے مٹی اپنے سر میں ڈالی اور بولے : اے خطاب کے بیٹے ! اللہ تعالیٰ اس کے بعد تمہاری کیا پروا کرے گا پھر اس کے بعد سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے ، اور بولے : اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رحمت کی وجہ سے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ رجوع کر لیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صالح حضرمی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7753
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (291/17)»
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ ، وَلَا عَتَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مِلْكٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” طلاق صرف نکاح کے بعد ہوتی ہے ، اور غلام آزاد کرنا صرف ملکیت کے بعد ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ روایت کے یہ الفاظ ان کے ہیں امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7754
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1499) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (462)»
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا طَلَاقَ لِمَنْ يَمْلِكُ ، وَلَا عَتَاقَ لِمَنْ لَا يَمْلِكُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنْ طَاوُوسًا لَمْ يَلْقَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کی ( دی ہوئی ) طلاق نہیں ہوتی ، جو مالک نہ ہو ( یعنی جو طلاق دینے کا حق نہ رکھتا ہو ) ، اور اس شخص کا غلام آزاد کرنا ثابت نہیں ہوتا ، جو ( غلام کا ) مالک نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ طاؤس نامی راوی نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7755
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (89) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (166/20)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بَعْدَ طَلَاقٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” طلاق دینا ، صرف نکاح کے بعد ہی ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں أحمد بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7756
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (501)»
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : حَفِظْتُ لَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتًّا : " لَا طَلَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ نِكَاحٍ ، وَلَا عَتَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مِلْكٍ ، وَلَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ ، وَلَا يُتْمَ بَعْدَ حُلُمٍ ، وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ ، وَلَا وِصَالَ فِي الصِّيَامِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ لَا يُتْمَ بَعْدَ حُلُمٍ ، وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْعِتْقِ وَالنُّذُورِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے تمہارے لئے اللہ کے رسول سے چھ باتیں یاد رکھیں ہیں : ” طلاق دینا صرف نکاح کے بعد ہوتا ہے غلام آزاد کرنا صرف ملکیت کے بعد ہوتا ہے معصیت کے بارے میں نذر کو پورا کرنا لازم نہیں ہوتا بالغ ہونے کے بعد یتیمی ثابت نہیں ہوتی رات تک خاموش رہنے ( یعنی چپ کے روزے ) کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اور روزے رکھتے ہوئے صوم وصال نہیں رکھا جائے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے بالغ ہونے کے بعد یتیمی ثابت نہیں ہوتی اور رات تک خاموش رہنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس سے پہلے غلام آزاد کرنے اور نذر سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7757
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (266)»
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : جَاءَ مَمْلُوكٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مَوْلَايَ زَوَّجَنِي ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي قَالَ : فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الطَّلَاقُ بِيَدِ مَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں : ایک غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے آقا نے میری شادی کروائی اب وہ یہ چاہتا ہے کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! طلاق کا اختیار اس شخص کو ہوتا ہے جو پنڈلی کو پکڑتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7758
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (179/17)»
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : إِنْ طَلَّقَ مَا لَمْ يَنْكِحْ فَهُوَ جَائِزٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَخْطَأَ فِي هَذَا ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : ( إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ ) ، وَلَمْ يَقُلْ إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ، ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ نَكَحْتُمُوهُنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ اطلاع ملی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں : اگر آدمی اس عورت کو طلاق دیدے جس کے ساتھ اس نے نکاح نہیں کیا ہوا تھا تو یہ جائز ہو گا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : انہوں نے اس مسئلے میں غلطی کی ہے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم مومن عورتوں کے ساتھ نکاح کر لو پھر اس کے بعد اگر تم انہیں مس کرنے سے پہلے انہیں طلاق دیدو “ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : جب تم مومن عورتوں کو طلاق دیدو اور پھر ان سے نکاح کر لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7759
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9635)»
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْجَوْزِيِّ قَالَ : قَالَ : سَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ رَجُلٍ ذَكَرَ امْرَأَةً فَقَالَ : يَوْمَ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ أَلْبَتَّةَ ؟ فَقَالَ عَطَاءٌ : " لَا طَلَاقَ لِمَنْ لَا يَمْلِكُ عُقْدَتَهُ ، وَلَا عِتْقَ لِمَنْ لَا يَمْلِكُ رَقَبَتَهُ " . ¤ ذُكِرَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَسْنَدَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَيُّوبُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایوب بن سلیمان جوزی بیان کرتے ہیں : میں نے عطاء بن ابی رباح سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا : جو کسی عورت کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ جس دن میں نے اس کے ساتھ شادی کی ، تو اسے طلاق بتہ ہو گی ، تو عطاء نے جواب دیا : آدمی جس کے عقدہ کا مالک نہ ہو اسے طلاق نہیں دے سکتا اور جس کی گردن کا مالک نہ ہو اسے آزاد نہیں کر سکتا ۔ یہ بات سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ذکر کی گئی ہے ، اور انہوں نے اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ایوب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7760
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11467)»