حدیث نمبر: 7752
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ لَهَا : مَا يُبْكِيكِ ؟ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَكِ إِنَّهُ قَدْ كَانَ طَلَّقَكِ مَرَّةً ، ثُمَّ رَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي وَاللَّهِ لَإِنْ كَانَ طَلَّقَكِ مَرَّةً أُخْرَى لَا كَلَّمْتُكِ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ كَذَلِكَ رِجَالُ الْبَزَّارِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، تو وہ رو رہی تھیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دیدی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے بھی تمہیں ایک مرتبہ طلاق دے چکے ہیں اور میری وجہ سے آپ نے تم سے رجوع کر لیا تھا اللہ کی قسم ! اگر آپ نے دوسری مرتبہ تمہیں طلاق دیدی ، تو میں کبھی تمہارے ساتھ بات نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام بزار کے رجال کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1502) اخرجه ابو يعلي فى المسند (172) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (189/23)»