مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابٌ [ الرَّجْعَةِ ] . باب: رجوع کرنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : إِنْ طَلَّقَ مَا لَمْ يَنْكِحْ فَهُوَ جَائِزٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَخْطَأَ فِي هَذَا ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : ( إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ ) ، وَلَمْ يَقُلْ إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ، ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ نَكَحْتُمُوهُنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ابن جریج بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ اطلاع ملی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں : اگر آدمی اس عورت کو طلاق دیدے جس کے ساتھ اس نے نکاح نہیں کیا ہوا تھا تو یہ جائز ہو گا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : انہوں نے اس مسئلے میں غلطی کی ہے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم مومن عورتوں کے ساتھ نکاح کر لو پھر اس کے بعد اگر تم انہیں مس کرنے سے پہلے انہیں طلاق دیدو “ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : جب تم مومن عورتوں کو طلاق دیدو اور پھر ان سے نکاح کر لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔