مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابٌ [ الرَّجْعَةِ ] . باب: رجوع کرنے کا بیان
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَ حَفْصَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَوَضَعَ التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ ، وَقَالَ : مَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ بَعْدَهَا ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُرَاجِعَ حَفْصَةَ رَحْمَةً لِعُمَرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دیدی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو انہوں نے مٹی اپنے سر میں ڈالی اور بولے : اے خطاب کے بیٹے ! اللہ تعالیٰ اس کے بعد تمہاری کیا پروا کرے گا پھر اس کے بعد سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے ، اور بولے : اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رحمت کی وجہ سے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ رجوع کر لیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صالح حضرمی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔