کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جمعہ کے حقوق جن کا تعلق غسل کرنے خوشبو لگانے اور اس طرح کے دیگر امور سے ہے
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَيَرْكَعُ إِنْ بَدَا لَهُ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا ، ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يُصَلِّيَ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " ثُمَّ خَرَجَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوشبو لگائے اگر اس کے پاس موجود ہو اور اپنا سب سے بہتر لباس پہنے اور پھر نکلے یہاں تک کہ مسجد آ جائے اور اسے مناسب لگے ، تو نوافل ادا کرے اور اس دوران کسی کو اذیت نہ پہنچائے پھر وہ خاموش رہے ، یہاں تک کہ ( جمعہ کی نماز با جماعت ادا کر لے ) تو یہ چیز اس کے لئے اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” پھر وہ نکلے اور اس پر سکینت ہو ( یعنی وہ پرسکون انداز میں چلتا ہوا ) مسجد تک آ جائے “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3038
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ لَبِسَ مَنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ طِيبًا إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ثُمَّ مَشَى إِلَى الْجُمُعَةِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا وَلَمْ يُؤْذِهِ وَرَكَعَ مَا قُضِيَ لَهُ ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَحَرْبٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کر کے اپنا سب سے بہتر لباس پہنے اور خوشبو لگائے اگر اس کے پاس موجود ہو پھر جمعہ کی طرف پیدل چل کر جائے اور پرسکون انداز میں چل کر جائے وہ کسی کو پھلانگے نہیں وہ کسی کو اذیت نہ پہنچائے اور جو اس کے نصیب میں ہو اتنے نوافل ادا کرے پھر انتظار کرتا رہے ، یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے تو اس کے دو جمعوں کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں حرب بن قیس کے حوالے سے سیدنا ابودرداء سے نقل کی ہے حرب نامی راوی نے سیدنا ابودرداء سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3039
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ : كَانَ نُبَيْشَةُ الْهُذَلِيُّ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُؤْذِي أَحَدًا ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْإِمَامَ خَرَجَ صَلَّى مَا بَدَا لَهُ ، وَإِنْ وَجَدَ الْإِمَامَ قَدْ خَرَجَ جَلَسَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ جَمُعَتَهُ وَكَلَامَهُ ، إِنْ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فِي جَمُعَتِهِ تِلْكَ ذُنُوبُهُ كُلُّهَا أَنْ يَكُونَ كَفَّارَةً لِلْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ أَحْمَدَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں : سیدنا نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث نقل کرتے تھے : ” مسلمان جمعہ کے دن جب غسل کرتا ہے ، اور پھر مسجد کی طرف آتا ہے ، اور کسی کو اذیت نہیں پہنچاتا اگر وہ یہ پاتا ہے کہ امام ابھی نہیں آیا تو پھر جتنا اس کو مناسب لگتا ہے اتنے نوافل ادا کرتا ہے ، اور اگر امام آچکا ہو تو وہ بیٹھ جاتا ہے ، اور غور سے ( خطبہ ) سنتا ہے ، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ امام اپنا جمعہ اور اپنا کلام مکمل کر لیتا ہے ، تو اگر اس کے اس جمعہ کے تمام گناہوں کی مغفرت نہ ہوئی ہو ، تو پھر یہ اس کے بعد والے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں صرف امام أحمد کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ” ثقہ“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3040
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل اول مسند البصريين حديث نبيشة الهذلي 20217»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَدَنَا وَابْتَكَرَ فَاقْتَرَبَ وَاسْتَمَعَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا قِيَامُ سَنَةٍ وَصِيَامُهَا " . ¤ قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ حَدِيثَانِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص سر دھوئے اور غسل کرے اور ( امام کے ) قریب ہو اور جلدی چلا جائے اور غور سے خطبہ سنے تو اس کے اٹھائے ہوئے ہر قدم کے عوض میں اسے ایک سال کے قیام ( یعنی نوافل ادا کرنے ) اور روزوں کا ثواب ملتا ہے “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ابوداؤد نے دو احادیث روایت کی ہیں جو اس کے علاوہ ہیں
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3041
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ فَأَحْسَنَ الطَّهُورَ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ وَلَمْ يَلْغُ وَلَمْ يَجْهَلْ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ ، وَفِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَالْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَ بَيْنَهُنَّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : " وَرَكَعَ شَيْئًا إِنْ بَدَا لَهُ كُفِّرَ عَنْهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ؑ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر وہ جمعہ کے لئے آئے اور کوئی لغو حرکت نہ کرے اور جہالت کا مظاہرہ نہ کرے یہاں تک کہ امام ( نماز ادا کر کے ) فارغ ہو جائے تو یہ چیز اس شخص کے اس جمعہ اور اس کے بعد والے جمعہ کے ( درمیان کے ) گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ، اور جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے ، جس میں مؤمن بندہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگتا ہے اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے ، اور فرض نمازیں درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہیں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

یہ روایت امام أحمد امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اگر اسے مناسب لگے ، تو وہ کچھ نوافل ادا کر لے ، تو یہ چیز اس کے اس جمعہ سے لے کر اگلے جمعہ تک کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ، اور مزید تین دن کے ( گناہوں کا کفارہ بنتی ہے ) “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3042
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَاجَبٌ هُوَ ؟ قَالَ : لَا وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ بَدْءِ الْغُسْلِ : كَانَ النَّاسُ مُحْتَاجِينَ وَكَانُوا يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَكَانُوا يَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَيِّقًا مُتَقَارِبَ السَّقْفِ فَرَاحَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَعَرِقُوا، وَكَانَ مِنْبَرُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَصِيرًا إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ فَعَرِقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُهُمْ - أَرْوَاحُ الصُّوفِ - فَتَأَذَّى بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا جِئْتُمُ الْجُمُعَةَ فَاغْتَسِلُوا وَلِيَمَسَّ أَحَدُكُمْ مِنْ أَطْيَبِ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے ان سے جمعہ کے دن غسل کرنے کے بارے میں دریافت کیا : کہ کیا یہ واجب ہے انہوں نے فرمایا : جی نہیں البتہ غسل کے ( حکم ) کا آغاز کیسے ہوا ؟ میں تمہیں اس بارے میں بتا دیتا ہوں پہلے لوگ غریب ہوتے تھے وہ اونی لباس پہنتے تھے ، اور اپنی پشت پر لا کر کھجوروں کو پانی دیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی تھی اس کی چھت نیچی تھی لوگ اونی لباس پہن کر آ گئے انہیں پسینہ آ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر بھی چھوٹا تھا اس کے تین درجے تھے لوگوں کو اونی لباس میں پسینہ آیا تو ان کی بو پھیل گئی انہیں ایک دوسرے کی وجہ سے اذیت ہوئی یہاں تک کہ ان کی بو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی پہنچ گئی آپ اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جب تم جمعہ کے لئے آؤ تو غسل کر لیا کرو اور اگر کسی شخص کے پاس موجود ہو تو وہ سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرے “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3043
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَسَوَّكُ وَيَمَسُّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ لِأَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ جمعہ کے دن غسل کرے مسواک کرے اور خوشبو لگائے اگر اس کے اہل خانہ کے پاس وہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3044
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ دَنَا حَيْثُ يَسْتَمِعُ خُطْبَةَ الْإِمَامِ فَإِذَا خَرَجَ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَهُ كُتِبَتْ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا عِبَادَةُ سَنَةٍ ، قِيَامُهَا وَصِيَامُهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن سر کو دھوئے اور غسل کرے پھر وہ قریب آ جائے جہاں وہ امام کا خطہ سن سکتا ہو جب امام آ جائے تو وہ غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے ، یہاں تک کہ امام کی اقتداء میں نماز ادا کرے تو اس کے اٹھائے ہوئے ہر ایک قدم کے عوض میں اس کے لئے ایک سال کی عبادت یعنی ایک سال کے قیام اور روزوں کا ثواب نوٹ کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن عجلان ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3045
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ السِّوَاكُ وَغُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَأَنْ يَمَسَّ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ إِنْ كَانَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہر مسلمان پر جمعہ کے دن مسواک کرنا اور غسل کرنا لازم ہے ، اور اگر اس کے اہل خانہ کے پاس خوشبو موجود ہو تو وہ لگانا بھی لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں یہ امید رکھتا ہوں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3046
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ [ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ] الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ ، وَإِنْ وَجَدَ طِيبًا فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمَسَّ مِنْهُ وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے مسلمانوں کے گروہ ! تم میں سے جو شخص جمعہ کی ادائیگی کے لئے آئے اسے غسل کر لینا چاہیے اور اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو پھر اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر وہ اسے لگا لے اور تم پر مسواک کرنا لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3047
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي جُمُعَةٍ مِنَ الْجُمَعِ : " مُعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ ؛ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ عِيدًا فَاغْتَسِلُوا وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جمعہ کے دن ارشاد فرمایا : ” اے مسلمانوں کے گروہ ! بے شک یہ ایسا دن ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے عید بنایا ہے ، تو تم لوگ غسل کرو اور تم پر مسواک کرنا لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم اور صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3048
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جمعہ کے لئے آئے اسے غسل کر لینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3049
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف, قال الهيثمي:رواه الطبراني في الأوسط، وفيه عبد الله بن سفيان، وهو ضعيف (2/170) ولکن حدیث صحیح
قَالَ الْعَقِيلِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ قَالَ الذَّهَبِيُّ : وَرَوَى لَهُ حَدِيثًا جَيِّدًا وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے : ( وہ بیان کرتے ہیں : ) اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم ہر ہفتے میں ایک دن غسل کیا کریں راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ جمعہ کے دن ایسا کیا کریں ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی ہے عقیلی بیان کرتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی امام ذہبی کہتے ہیں : انہوں نے اس کے حوالے سے ایک عمدہ حدیث نقل کی ہے ۔ ابن حبان نے اس راوی کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے : اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غلطی کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3050
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد 5727»
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو حَمْزَةَ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص جمعہ کے لئے اسے غسل کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن میمون ابوحمزہ ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3051
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر واجب ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3052
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مِنَ السُّنَّةِ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سنت میں یہ چیز شامل ہے کہ جمعہ کے دن غسل کیا جائے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3053
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ سُنَّةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ قَالَ أَحْمَدُ : طَرَحَ النَّاسُ حَدِيثَهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : يَكْتُبُ حَدِيثَهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں : جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبحر بکراوی ہے امام أحمد کہتے ہیں : لوگوں نے اس کی حدیث کو پرے کر دیا تھا بعض حضرات نے یہ بات بیان کی ہے ، اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3054
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ ، وَأَظُنُّهُ الْخُورِيَّ ، فَإِنَّهُ فِي طَبَقَتِهِ رَوَى عَنِ التَّابِعِينَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جمعہ کے لئے آئے اسے غسل کر لینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید ہے ، اس کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ یہ خوری ہے کیونکہ یہ اسی کے طبقے سے تعلق رکھتا ہے ، اس نے تابعین سے روایات نقل کی ہیں ، اور یہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3055
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً، اس کا راوی ابراہیم بن یزید الخوزی متروک الحدیث ہے۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مِنْ حَقِّ الْجُمُعَةِ السِّوَاكُ وَالْغُسْلُ ، وَمَنْ وَجَدَ طِيبًا فَلْيَمَسَّ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جمعہ کے حق میں مسواک کرنا اور غسل کرنا شامل ہے ، اور جو شخص خوشبو پائے وہ اسے لگا لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3056
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اغْتَسَلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلَهُ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جمعہ کے دن غسل کرو کیونکہ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے تو یہ اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک اور مزید تین دنوں کے درمیان ( میں ہونے والے گناہوں ) کا کفارہ بن جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جسے امام أحمد یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ دحیم اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3057
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْجُمُعَةُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جمعہ اس جمعہ سے لے کر اس کے بعد والے جمعہ تک اور مزید تین دنوں کے درمیان ( میں ہونے والے گناہوں ) کا کفارہ بن جاتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص ایک اچھائی کرے گا اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ، جس نے اپنے والد سے یہ روایت نقل کی ہے : امام ابوحاتم کہتے ہیں : اس نے اپنے والد سے کسی چیز کا سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3058
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا سَلْمَانُ هَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؟ " قُلْتُ : هُوَ الَّذِي جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ أَبُوكَ أَوْ أَبَوَيْكَ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ أُحَدِّثُكَ عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ وَيَلْبَسُ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ وَيَتَطَيَّبُ مِنْ طِيبٍ ، إِنْ كَانَ لَهُمْ طِيبٌ وَإِلَّا فَالْمَاءُ ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُنْصِتُ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ ثُمَّ يُصَلِّي إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى مَا اجْتُنِبَتِ الْمَقْتَلَةُ وَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! کیا تم جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ وہ دن ہے ، جس میں اللہ تعالی نے آپ کے والد ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ کے ماں باپ ( یعنی سیدنا آدم اور سیدہ حوا علیہا السلام ) کو اکٹھا کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں تمہیں جمعہ کے دن کے بارے میں بتاتا ہوں جو بھی مسلمان طہارت حاصل کر کے عمدہ لباس پہنے اور خوشبو لگائے اگر اس کے پاس خوشبو موجود ہو ورنہ پانی ہی کافی ہے پھر وہ مسجد میں آئے اور خاموش رہے ، یہاں تک کہ امام آ جائے پھر وہ نماز ادا کرے تو یہ چیز اس شخص کے لئے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے درمیان گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ، جب کہ قتل کرنے سے اجتناب کیا گیا ہو اور یہ فضیلت ہمیشہ رہے گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے نقل کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3059
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا سَلْمَانُ مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، ثَلَاثًا قَالَ سَلْمَانُ : " يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ جُمِعَ أَبُوكَ أَوْ أَبَوَيْكَ " . ¤ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا پھر سیدنا سلمان نے عرض کی : جمعہ کا دن وہ ہے ، جس میں آپ کے والد کو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ کے ماں باپ کو ( یعنی سیدنا آدم اور سیدہ حواء علیہا السلام ) کو جمع کیا گیا “ ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3060
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه سهل ما اسند سلمان القريع الضبي 5965»
وَعَنْ عَتِيقٍ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كُفِّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ وَخَطَايَاهُ ، فَإِذَا أَخَذَ فِي الْمَشْيِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عِشْرُونَ حَسَنَةٌ، فَإِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ أُجِيزُ بِعَمَلِ مِائَتَيْ سَنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے ، اس سے اس کے گناہ اور خطائیں دور کر دیے جاتے ہیں ، اور جب وہ پیدل چلتا ہوا جاتا ہے ، تو ہر ایک قدم کے عوض میں بیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں جب وہ نماز سے فارغ ہوتا ہے ، تو اسے دو سو سال کے عمل کی جزا دی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن حمرہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3061
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَخَطَايَاهُ ، وَإِذَا أَخَذَ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْجُمُعَةِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ عِشْرِينَ سَنَةً ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ أُجِيزُ بِعَمَلِ مِائَتَيْ سَنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو مَعْمَرٍ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اس کے گناہوں ، اور خطاؤں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اور جب وہ پیدل چل کر جمعہ کے لئے جاتا ہے ، تو اسے ہر ایک قدم کے عوض میں بیس سال کے عمل کا ثواب ملتا ہے ، جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتا ہے ، تو اسے دو سال کے عمل کی جزا دی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ابومعمر ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3062
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لَيَسُلُّ الْخَطَايَا مِنْ أُصُولِ الشَّعْرِ انْسِلَالًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جمعہ کے دن غسل کرنے سے بالوں کی جڑوں سے بھی خطائیں نکل جاتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3063
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : دَخَلَ عَلِيَّ أَبِي وَأَنَا أَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ : غُسْلُكَ هَذَا مِنْ جَنَابَةٍ أَوْ لِلْجُمُعَةِ ؟ قُلْتُ : مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ : أَعِدْ غُسْلًا آخَرَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَانَ فِي طَهَارَةٍ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِيهِ لِينٌ وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ وَابْنُ حِبَّانَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوقتادہ بیان کرتے ہیں : میرے والد میرے ہاں تشریف لائے میں جمعہ کے دن غسل کر رہا تھا انہوں نے دریافت کیا : یہ غسل جنابت ہے یا جمعہ کے لئے نسل ہے ؟ میں نے جواب دیا : غسل جنابت ہے انہوں نے فرمایا : تم دوبارہ غسل کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے ، تو وہ اگلے جمعہ تک طہارت کی حالت میں رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن مسلم ہے ابوحاتم کہتے ہیں : اس میں کمزوری پائی جاتی ہے امام حاکم رحمہ اللہ اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3064
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ مَسَّ مِنْ أَطْيَبِ طِيبِهِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ثُمَّ رَاحَ وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ حَتَّى يَقُومَ مِنْ مَقَامِهِ ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَفْرُغَ الْإِمَامُ مِنْ خُطْبَتِهِ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَوَّادٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور پھر اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگائے اور اپنا سب سے بہترین لباس پہنے پھر وہ جائے اور دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہ ڈالے یہاں تک کہ اپنی جگہ تک پہنچ جائے پھر وہ خاموش رہے ، یہاں تک کہ امام اپنے خطبے سے فارغ ہو جائے تو اس شخص کے دو جمعوں کے درمیان کے اور مزید تین دنوں کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن رواد ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3065
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَصْبَحَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَغَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَبَكَّرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ ، وَدَنَا وَلَمْ يَلْغُ ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلٌ مِنْ أَعْمَالِ الْبِرِّ ؛ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ نَحْوُ هَذَا فِي السُّنَنِ غَيْرُ هَذَا . ¤ وَفِيهِ صَالِحٌ الْعَدَانَيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اوس بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جمعہ کے دن صبح کے وقت سر دھوئے اور غسل کرے اور جلدی جائے اور پیدل چل کر جائے سوار ہو کر نہ جائے اور قریب ہو اور لغو حرکت نہ کرے تو اسے ہر ایک قدم کے عوض میں نیکیوں کے اعمال میں سے عمل یعنی روزے اور نماز کا ثواب دیا جاتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صاحب کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو اس کی مانند ہے ، اور ” سنن “ میں مذکور ہے ، تاہم وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی صالح عدانی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3066
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف