مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ حُقُوقِ الْجُمُعَةِ مِنَ الْغُسْلِ وَالطِّيبِ وَنَحْوِ ذَلِكَ . باب: جمعہ کے حقوق جن کا تعلق غسل کرنے خوشبو لگانے اور اس طرح کے دیگر امور سے ہے
وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ : كَانَ نُبَيْشَةُ الْهُذَلِيُّ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُؤْذِي أَحَدًا ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْإِمَامَ خَرَجَ صَلَّى مَا بَدَا لَهُ ، وَإِنْ وَجَدَ الْإِمَامَ قَدْ خَرَجَ جَلَسَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ جَمُعَتَهُ وَكَلَامَهُ ، إِنْ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فِي جَمُعَتِهِ تِلْكَ ذُنُوبُهُ كُلُّهَا أَنْ يَكُونَ كَفَّارَةً لِلْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ أَحْمَدَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں : سیدنا نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث نقل کرتے تھے : ” مسلمان جمعہ کے دن جب غسل کرتا ہے ، اور پھر مسجد کی طرف آتا ہے ، اور کسی کو اذیت نہیں پہنچاتا اگر وہ یہ پاتا ہے کہ امام ابھی نہیں آیا تو پھر جتنا اس کو مناسب لگتا ہے اتنے نوافل ادا کرتا ہے ، اور اگر امام آچکا ہو تو وہ بیٹھ جاتا ہے ، اور غور سے ( خطبہ ) سنتا ہے ، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ امام اپنا جمعہ اور اپنا کلام مکمل کر لیتا ہے ، تو اگر اس کے اس جمعہ کے تمام گناہوں کی مغفرت نہ ہوئی ہو ، تو پھر یہ اس کے بعد والے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں صرف امام أحمد کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ” ثقہ“ ہے ۔