حدیث نمبر: 3064
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : دَخَلَ عَلِيَّ أَبِي وَأَنَا أَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ : غُسْلُكَ هَذَا مِنْ جَنَابَةٍ أَوْ لِلْجُمُعَةِ ؟ قُلْتُ : مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ : أَعِدْ غُسْلًا آخَرَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَانَ فِي طَهَارَةٍ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِيهِ لِينٌ وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ وَابْنُ حِبَّانَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن ابوقتادہ بیان کرتے ہیں : میرے والد میرے ہاں تشریف لائے میں جمعہ کے دن غسل کر رہا تھا انہوں نے دریافت کیا : یہ غسل جنابت ہے یا جمعہ کے لئے نسل ہے ؟ میں نے جواب دیا : غسل جنابت ہے انہوں نے فرمایا : تم دوبارہ غسل کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے ، تو وہ اگلے جمعہ تک طہارت کی حالت میں رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن مسلم ہے ابوحاتم کہتے ہیں : اس میں کمزوری پائی جاتی ہے امام حاکم رحمہ اللہ اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3064
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔