کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص ( جمعہ کے دن ) وضو کرنے پر اکتفاء کرے
حدیث نمبر: 3067
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ ، فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يَزِيدٌ الرَّقَاشِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جمعہ کے دن صرف وضو کر لے ، تو یہ بھی کافی ہے ، اور ٹھیک ہے ، لیکن جو شخص غسل کر لے ، تو غسل کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3067
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3068
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جمعہ کے دن وضو کرے تو یہ بھی کافی ہے ، اور اچھا ہے ، اور جو شخص غسل کر لے ، تو غسل کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3068
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3069
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أُسَيْدُ بْنُ زِيدٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن وضو کرے تو یہ بھی کافی ہے ، اور اچھا ہے ، اور جو شخص غسل کر لے ، تو غسل کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسید بن زید ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3069
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3070
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رُبَّمَا اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرُبَّمَا تَرَكَهُ أَحْيَانًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَكِنَّهُ أَثْنَى عَلَيْهِ أَحْمَدُ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ : ضَعِيفٌ وَلَكِنَّهُ صَدُوقٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن بعض اوقات غسل کر لیتے تھے کبھی کبھار آپ اسے ترک بھی کر دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن معاویہ نیشا پوری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، تاہم امام أحمد نے اس کی تعریف کی ہے عمرو بن علی کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ، لیکن صدوق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3070
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما اسند عبد الله بن عباس رضي الله عنهما ميمون بن مهران ، 12780»
حدیث نمبر: 3071
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو حُرَّةَ الرَّقَاشِيُّ ، وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن وضو کر لے ، تو یہ بھی کافی ہے ، اور اچھا ہے ، اور جو شخص غسل کرے تو غسل کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحرہ رقاشی ہے ، جسے امام ابوداؤد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3071
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3072
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَخَلَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُبْطِئُ أَحَدُكُمْ ثُمَّ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ وَيُؤْذِيهِمْ" فَقَالَ : مَا زِدْتُ عَلَى أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ فَقَالَ : "أَوَيَوْمُ وُضَوْءٍ هُوَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْوَلِيدِ السَّهْمِيُّ قَالَ النَّسَائِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے ۔ اسی دوران ایک شخص ( مسجد میں ) داخل ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی ایک شخص آنے میں تاخیر کرتا ہے ، اور پھر لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے ، اور انہیں اذیت پہنچاتا ہے ، اس شخص نے کہا: میں نے جیسے ہی اذان سنی تو اور کچھ نہیں کیا صرف وضو کیا ( اور آ گیا ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ صرف وضو کرنے کا دن ہے ؟ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ولید سہمی ہے امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3072
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3073
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : يُسْتَحَبُّ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَيْسَ بِحَتْمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْبَابِ الَّذِي قَبْلَ هَذَا مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ غُسْلَ الْجُمُعَةِ سُنَّةٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جمعہ کے دن غسل کرنے کو مستحب قرار دیا گیا ہے یہ لازمی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے والے باب میں یہ روایت گزر چکی ہے ، جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3073
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح