حدیث نمبر: 3065
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ مَسَّ مِنْ أَطْيَبِ طِيبِهِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ثُمَّ رَاحَ وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ حَتَّى يَقُومَ مِنْ مَقَامِهِ ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَفْرُغَ الْإِمَامُ مِنْ خُطْبَتِهِ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَوَّادٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور پھر اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگائے اور اپنا سب سے بہترین لباس پہنے پھر وہ جائے اور دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہ ڈالے یہاں تک کہ اپنی جگہ تک پہنچ جائے پھر وہ خاموش رہے ، یہاں تک کہ امام اپنے خطبے سے فارغ ہو جائے تو اس شخص کے دو جمعوں کے درمیان کے اور مزید تین دنوں کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن رواد ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3065
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف