مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ حُقُوقِ الْجُمُعَةِ مِنَ الْغُسْلِ وَالطِّيبِ وَنَحْوِ ذَلِكَ . باب: جمعہ کے حقوق جن کا تعلق غسل کرنے خوشبو لگانے اور اس طرح کے دیگر امور سے ہے
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا سَلْمَانُ هَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؟ " قُلْتُ : هُوَ الَّذِي جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ أَبُوكَ أَوْ أَبَوَيْكَ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ أُحَدِّثُكَ عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ وَيَلْبَسُ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ وَيَتَطَيَّبُ مِنْ طِيبٍ ، إِنْ كَانَ لَهُمْ طِيبٌ وَإِلَّا فَالْمَاءُ ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُنْصِتُ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ ثُمَّ يُصَلِّي إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى مَا اجْتُنِبَتِ الْمَقْتَلَةُ وَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! کیا تم جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ وہ دن ہے ، جس میں اللہ تعالی نے آپ کے والد ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ کے ماں باپ ( یعنی سیدنا آدم اور سیدہ حوا علیہا السلام ) کو اکٹھا کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں تمہیں جمعہ کے دن کے بارے میں بتاتا ہوں جو بھی مسلمان طہارت حاصل کر کے عمدہ لباس پہنے اور خوشبو لگائے اگر اس کے پاس خوشبو موجود ہو ورنہ پانی ہی کافی ہے پھر وہ مسجد میں آئے اور خاموش رہے ، یہاں تک کہ امام آ جائے پھر وہ نماز ادا کرے تو یہ چیز اس شخص کے لئے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے درمیان گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ، جب کہ قتل کرنے سے اجتناب کیا گیا ہو اور یہ فضیلت ہمیشہ رہے گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے نقل کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔