مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ حُقُوقِ الْجُمُعَةِ مِنَ الْغُسْلِ وَالطِّيبِ وَنَحْوِ ذَلِكَ . باب: جمعہ کے حقوق جن کا تعلق غسل کرنے خوشبو لگانے اور اس طرح کے دیگر امور سے ہے
وَعَنْ عَتِيقٍ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كُفِّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ وَخَطَايَاهُ ، فَإِذَا أَخَذَ فِي الْمَشْيِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عِشْرُونَ حَسَنَةٌ، فَإِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ أُجِيزُ بِعَمَلِ مِائَتَيْ سَنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے ، اس سے اس کے گناہ اور خطائیں دور کر دیے جاتے ہیں ، اور جب وہ پیدل چلتا ہوا جاتا ہے ، تو ہر ایک قدم کے عوض میں بیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں جب وہ نماز سے فارغ ہوتا ہے ، تو اسے دو سو سال کے عمل کی جزا دی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن حمرہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔