مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ حُقُوقِ الْجُمُعَةِ مِنَ الْغُسْلِ وَالطِّيبِ وَنَحْوِ ذَلِكَ . باب: جمعہ کے حقوق جن کا تعلق غسل کرنے خوشبو لگانے اور اس طرح کے دیگر امور سے ہے
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَيَرْكَعُ إِنْ بَدَا لَهُ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا ، ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يُصَلِّيَ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " ثُمَّ خَرَجَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوشبو لگائے اگر اس کے پاس موجود ہو اور اپنا سب سے بہتر لباس پہنے اور پھر نکلے یہاں تک کہ مسجد آ جائے اور اسے مناسب لگے ، تو نوافل ادا کرے اور اس دوران کسی کو اذیت نہ پہنچائے پھر وہ خاموش رہے ، یہاں تک کہ ( جمعہ کی نماز با جماعت ادا کر لے ) تو یہ چیز اس کے لئے اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” پھر وہ نکلے اور اس پر سکینت ہو ( یعنی وہ پرسکون انداز میں چلتا ہوا ) مسجد تک آ جائے “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔