عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ . ¤ وَقَدْ قَالَ مُرَّةُ : فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْحَنَفِيُّ الْيَمَامِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ عَلَيْهِ حَدِيثُهُ ، وَكَانَ يُلَقَّنُ فَيَتَلَقَّنُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے یہ لوگ صرف نماز کے آغاز میں رفع یدین کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ حضرات پہلی تکبیر کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر حنفی یمامی ہے ، جس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا باعث ہو گئی تھی اسے تلقین کی جاتی تھی تو وہ تلقین کو قبول کرتا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر حنفی یمامی ہے ، جس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا باعث ہو گئی تھی اسے تلقین کی جاتی تھی تو وہ تلقین کو قبول کرتا تھا ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے نماز کے آغاز میں رفع یدین کیا یہاں تک کہ انہیں ( یعنی دونوں ہاتھوں کو ) کانوں تک لے آئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
وَعَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَ الشَّجَرَةِ ؟ قَالَ : كُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ مِنَ الصَّلَاةِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا رَفْعَ الْيَدَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ : الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے یہ لوگ صرف نماز کے آغاز میں رفع یدین کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ حضرات پہلی تکبیر کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر حنفی یمامی ہے ، جس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا باعث ہو گئی تھی اسے تلقین کی جاتی تھی تو وہ تلقین کو قبول کرتا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر حنفی یمامی ہے ، جس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا باعث ہو گئی تھی اسے تلقین کی جاتی تھی تو وہ تلقین کو قبول کرتا تھا ۔
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ الْأَعْرَابِيَّ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي قَالَ : فَرَفَعَ رَأَسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَرَفَعَ كَفَّيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أَوْ بَلَغَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ : رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے ، جس نے ایک دیہاتی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو دونوں ہتھیلیاں بلند کیں یہاں تک کہ انہیں کانوں کی لو کے برابر لے آئے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : " وَالسُّجُودِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ صَحِيحٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجود میں رفع یدین کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” سجود میں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے آغاز میں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا جب آپ رکوع میں گئے جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا ( تو بھی آپ نے رفع یدین کیا ) “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا “ ۔
اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَرِنَا كَيْفَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَامَ فَصَلَّى فَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ آپ ہمیں دکھائیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی ؟ وہ کھڑے ہوئے انہوں نے نماز ادا کی تو انہوں نے ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، كُلُّهُمْ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ يُكَبِّرُ لِلسُّجُودِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی ہے یہ سب حضرات جب نماز کا آغاز کرتے تھے ، اور جب رکوع میں جانے کے لئے تکبیر کہتے تھے ، اور جب ( رکوع سے ) سر اٹھانے کے بعد سجدے میں جانے کے لئے تکبیر کہتے تھے ، تو اس وقت رفع یدین کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد اسلمی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد اسلمی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا اسْتَفْتَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْفَعْ يَدَيْهِ وَلْيَسْتَقْبِلْ بِبَاطِنِهِمَا الْقِبْلَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَمَامَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : عُمَيْرُ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص نماز کا آغاز کرے تو وہ رفع یدین کرے اور اپنی ہتھیلیوں کا رخ قبلہ کی طرف رکھے کیونکہ اللہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمیر بن عمران ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمیر بن عمران ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ لِلرُّكُوعِ ، وَعِنْدَ التَّكْبِيرِ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا التَّكْبِيرَ لِلسُّجُودِ ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے والی تکبیر اور سجدے میں جانے والی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے یہ ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، تاہم اس میں سجدے والی تکبیر کا ذکر نہیں ہے ، اس روایت کی سند صحیح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے یہ ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، تاہم اس میں سجدے والی تکبیر کا ذکر نہیں ہے ، اس روایت کی سند صحیح ہے ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ رَفَعَ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ فَإِذَا كَبَّرَ أَرْسَلَهُمَا ، وَرُبَّمَا رَأَيْتُهُ يَضَعُ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ سَكَتَ ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ ، وَيُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ ، وَكُنَّا لَا نَرْكَعُ حَتَّى نَرَاهُ رَاكِعًا ، ثُمَّ يَسْتَوِي قَائِمًا مِنْ رُكُوعِهِ حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَكَانَهُ ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي صِفَةِ الصَّلَاةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرتے تھے تو دونوں ہاتھ کانوں تک بلند کرتے تھے جب آپ تکبیر کہ لیتے تھے تو انہیں چھوڑ دیتے بعض اوقات میں نے دیکھا کہ آپ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیتے تھے جب آپ سورہ فاتحہ سے فارغ ہوتے تھے تو کچھ دیر خاموش رہتے تھے پھر دونوں ہاتھ کانوں تک بلند کرتے تھے ، اور تکبر کہتے ہوئے رکوع میں چلے جاتے تھے ہم اس وقت تک رکوع میں نہیں جاتے تھے جب تک ہم آپ کو رکوع میں دیکھ نہیں لیتے تھے پھر آپ کوع کے بعد سیدھے کھڑے ہوتے تھے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی تھی پھر آپ دونوں ہاتھ کانوں تک بلند کرتے تھے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ روایت آگے چل کر نماز کے طریقے سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحد رہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحد رہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : كَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا : " إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَلَا تُخَالِفْ آذَانَكُمْ ، ثُمَّ قُولُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ وَإِنْ لَمْ تَزِيدُوا عَلَى التَّكْبِيرِ أَجْزَأَتْكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے تھے : جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو ، تو دونوں ہاتھ بلند کرو جو تمہارے کانوں سے آگے نہ جائیں پھر یہ پڑھو : اللہ اکبر ! تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے تیرا اسم برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ) اگر تم تکبیر کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتے تو بھی یہ تمہارے لئے کفایت کر جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی اسلمی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی اسلمی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي إِلَّا فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ : حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ ، وَحِينَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْحَجِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صرف سات مواقع پر رفع یدین کیا جائے گا نماز کے آغاز میں جب آدمی مسجد حرام میں داخل ہوتا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ حدیث آگے چل کر حج سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی اگر اللہ نے چاہا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ ہے ، اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کے حوالے سے ضعیف ہے ، اس کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ ہے ، اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کے حوالے سے ضعیف ہے ، اس کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي مَنَاقِبِ وَائِلٍ مِنْ طَرِيقِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ حُجْرٍ ، عَنْ عَمَّتِهَا أُمِّ يَحْيَى بِنْتِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے وائل بن حجر ! جب تم نماز ادا کرو تو اپنے ہاتھ کانوں کے مدمقابل رکھو اور عورت اپنے ہاتھ سینے کے برابر تک اٹھائے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں اور دیگر کتابوں میں رفع یدین سے متعلق حدیث منقول ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں ہے ، اور یہ میمونہ بنت حجر کے حوالے سے منقول ہے انہوں نے اپنی پھوپھی اُم یحیی بنت عبدالجبار کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ۔ میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں ہے ، اور یہ میمونہ بنت حجر کے حوالے سے منقول ہے انہوں نے اپنی پھوپھی اُم یحیی بنت عبدالجبار کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ۔ میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ : افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ، وَاسْتِقْبَالِ الْبَيْتِ ، وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَالْمَوْقِفَيْنِ ، وَعِنْدَ الْحَجَرِ " . ¤ وَفِيهِ : ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سات مواقع پر رفع یدین کیا جائے گا نماز کے آغاز میں ، بیت اللہ کے سامنے ، آ کر صفا اور مروہ پر ، دو موقف میں اور حجر کے پاس“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلیٰ ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : إِنَّهُ يَكْتُبُ فِي كُلِّ إِشَارَةٍ يُشِيرُهَا الرَّجُلُ بِيَدِهِ فِي الصَّلَاةِ بِكُلِّ أُصْبُعٍ حَسَنَةً أَوْ دَرَجَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہر اشارے کا ثواب نوٹ کیا جاتا ہے ، جو اشارہ آدمی اپنی نماز کے دوران اپنے ہاتھ کے ذریعے کرتا ہے ہر ایک انگلی کے عوض میں ایک نیکی ملتی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک درجہ نصیب ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔