حدیث نمبر: 2592
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : كَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا : " إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَلَا تُخَالِفْ آذَانَكُمْ ، ثُمَّ قُولُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ وَإِنْ لَمْ تَزِيدُوا عَلَى التَّكْبِيرِ أَجْزَأَتْكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے تھے : جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو ، تو دونوں ہاتھ بلند کرو جو تمہارے کانوں سے آگے نہ جائیں پھر یہ پڑھو : اللہ اکبر ! تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے تیرا اسم برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ) اگر تم تکبیر کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتے تو بھی یہ تمہارے لئے کفایت کر جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی اسلمی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2592
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، کیونکہ اس کی سند میں یحییٰ بن یعلیٰ الاسلمی ہے جو کہ ضعیف راوی ہے۔